پاکستان اور تعلیم
کلچر
Private School Education
پاکستان کےدنیا کے نقشے پر ایک آزاد ریاست کے طور پر ابھرنے کے بعد ،اس
نظام تعلیم کو بتدریج بنیادی ڈھانچے اور تعلیم کے معیار کو بہتر نہ کر سکا ہے۔
تعلیمی محکموں کی مجرمانہ غفلت اور غیر ذمہ داروں رویوں اور فرائض میں غفلت کے باعث ناقابل تلافی نقصان
پہنچا۔ حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ پنجاب حکومت نے صورتحال کو ٹھیک کرنے کی بجائے ، سرکاری پرائمری اور مڈل
سکولوں کو پرائیویٹ افراد اور این جی او
کے حوالے شروع کر دیا ہے۔ پچھلی چند دہائیوں کے دوران پرائیویٹ سیکٹر نے
تعلیمی میدان میں نمایاں مقا م حاصل کر
لیا ہے۔ بلکہ تعلیم کے شعبے میں زبردست
قدم رکھا ہے۔ جس طرح حکومت میں شامل افراد
اپنے کاربار کی طرف توجہ دیتے
ہیںَ اسی پرائیویٹ سیکٹر کے افراد اور
اہلکاروں نے تعلیم کو کاروبار کی شکل دے دی ہے ۔ غریب اور نچلے متوسط طبقے کے
بچوں کو ایسے شمار کیا گیا ہے جیسے وہ تعلیم کے بالکل بھی مستحق نہیں ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے لیے اپنے خاندان
کے اثاثے بیچ دیتے ہیں۔ یہ بات حکومت کے لوگ میڈیا
پر باتیں کرتے ہیں
نجی
اسکول ریاست کے خاموش مددگار
پنجاب کی تعلیمی ترقی میں نجی اسکول ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت
رکھتے ہیں۔ جہاں سرکاری اسکول آبادی کے دباؤ اور وسائل کی کمی کی وجہ سے تعلیم
فراہم کرنے میں قاصر ہیں، وہاں نجی اسکولوں نے آگے بڑھ کر اس خلا کو پر کیا ہے۔ لیکن
افسوسناک امر یہ ہے کہ ان اداروں کو ریاست کی طرف سے وہ پذیرائی اور معاونت نہیں
مل رہی جس کے وہ حقدار ہیں۔ بلکہ تنقید پر
تنقید کی جاتی ہے۔
مالیاتی
تضاد نجی اور سرکاری سکول کے درمیان
تعلیمی
نظام کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ ایک سرکاری اسکول کے صرف ایک سینیئر ٹیچر کی
ماہانہ تنخواہ (جو کہ ایک لاکھ روپے سے زائد ہو سکتی ہے) اتنی رقم ہے جس میں ایک
چھوٹا نجی اسکول اپنے پورے ماہ کا نظام چلاتا ہے۔ اس بجٹ میں اسکول کا مالک درج ذیل
اخراجات پورے کرتا ہے:
·
پوری فیکلٹی اور عملے کی تنخواہ۔
·
اسکول کی عمارت کا کرایہ اور دیکھ
بھال۔
·
بجلی اور گیس کے کمرشل بلز۔
·
صفائی ستھرائی اور تعلیمی مواد کا
انتظام۔
افسوس اس بات کا ہے ، کہ یہ لوگ
ہر جگہ یہ بات کرتے ہیںَ ، نجی
سکول ایک کاروبار ہے ۔ درصل نجی اسکول
مالکان "تجارت" نہیں بلکہ "قومی خدمت" کر رہے ہیں، کیونکہ وہ
انتہائی قلیل وسائل میں وہ نتائج دے رہے ہیں جو ریاست بھاری فنڈز کے باوجود نہیں
دے پاتی۔
حکومتی امدادی پروگرام اور نجی اسکولوں کی محرومی
·
حکومت پاکستان بے نظیر انکم سپورٹ
پروگرام (BISP) اور دیگر سماجی تحفظ کے پروگراموں کے ذریعے
مستحق خاندانوں کو مالی امداد فراہم کرتی ہے۔ ہماری تجویز اور مطالبہ ہے کہ:
·
ان امدادی پروگراموں کو تعلیم کے
ساتھ مشروط کیا جائے۔
·
حکومت ان خاندانوں کے بچوں کی فیس
کا ایک حصہ براہِ راست ان اسکولوں کو منتقل کرے جہاں وہ بچے زیرِ تعلیم ہیں۔
·
اکثر والدین معاشی تنگی کی وجہ سے
حکومت سے فیس یا امداد تو لے لیتے ہیں پر
وہ نجی اسکولوں کو فیس ادا نہیں کر تےہیں، جس سے اسکول کا نظام
درہم برہم ہو جاتا ہے۔ اگر حکومت اس مالی امداد کو براہِ راست اسکول سے لنک کر دے
تو غریب بچوں کی تعلیم کا تسلسل
برقرار رہے گا اور اسکولوں کو بھی معاشی استحکام
ملے گا۔
درسی کتب کا معیار
یہ ایک بہت بڑالمحہ
فکر ہے کہ پرائمری اور مڈل کی سطح پر
پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتب کا معیار انتہائی ناقص ہے۔
·
ان کتابوں میں استعمال ہونے والا
کاغذ اتنا کمزور ہوتا ہے کہ سال مکمل ہونے سے پہلے ہی کتابیں پھٹ جاتی ہیں۔
·
چھپائی کا معیار اتنا گرا ہوا ہے کہ
حروف دھندلے ہوتے ہیں، جو بچوں کی بینائی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
·
حکومت کروڑوں روپے
ان ناقص کتابوں پر ضائع کرنے کے بجائے اگر نجی اسکولوں کو بہتر کوالٹی کا نصاب
فراہم کرنے میں مدد دے، تو تعلیمی معیار میں واضح بہتری آ سکتی ہے۔ بااثر طبقے کی
اس مسئلے پر خاموشی مجرمانہ ہے۔
مافیا ا لیبل اور ہراساں کرنے کا سلسلہ
نجی
تعلیمی اداروں کو "ایجوکیشن مافیا" کہنا ان ہزاروں مخلص لوگوں کی تذلیل
ہے جو نسلِ نو کو سنوار رہے ہیں۔ جب کہ یہ بازار سے کتابیں خرید کر والدین کو
ادھار دیتے ہیں۔ آپ ایک یا دو میں
رقم ادا کر دینا ، تاکہ ہم بھی آگے ادا کر سکیں۔مختلف سرکاری محکمے (ایجوکیشن،
بلڈنگ، ہیلتھ وغیرہ) رجسٹریشن اور این-او-سی (NOC) کے نام پر اسکول
مالکان کو ہراساں کرتے ہیں۔ جو دو سال کے لیا ہوتا ہے۔ پاکستان کے اندر
پانی جو گہرے بور کا ہوتا ہے ،
سکول کے اندر استعمال ہوتا ہے۔ جب
کے ہر گھر کے اندر ہوتا ہے۔ پر سکول
کو اس کے اوپر بھی بلیک میل کیا جاتا ہے۔ چھوٹی
موٹی کوتاہیوں پر بھاری جرمانے عائد کرنا اور اسکولوں کو مجرموں کی طرح ڈیل کرنا
معمول بن چکا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان اداروں کو اپنا حریف نہیں بلکہ
"سوشل سروس پارٹنر" تسلیم کرے۔ اُن
سکول کو جاری رکھنے میں
معاون بنے ۔
استاد کی عزتِ نفس
معاشرے
میں استاد کی عزت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ نجی سکولوں کے اساتذہ انتہائی کم تنخواہوں
پر دن رات محنت کرتے ہیں، مگر معاشرہ اور حکومت انہیں وہ مقام نہیں دیتے جس کے وہ
مستحق ہیں۔ اس کے لیے سکول انتظامیہ پر
بوجھ ڈالا جاتا ہے ، اگر دیکھا جائے حکومت
اس میں سکول کیا فنڈنگ کیا کرتی ہے۔ جب حکومتی
سطح پر اسکولوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، تو اس کا براہِ راست اثر اساتذہ
کے احترام پر پڑتا ہے۔ہماری التجا ہے کہ استاد کی عزتِ نفس کی بحالی کے لیے
حکومتی سطح پر اقدامات کیے جائیں اور انہیں معاشرے کا معزز ترین فرد تسلیم کیا
جائے۔
گزارش
ہے کہ:
·
نجی اسکولوں کو کمرشل یونٹ سمجھ کر
ٹیکس اور بل وصول کرنا بند کیا جائے اور انہیں تعلیمی رعایتیں دی جائیں۔
·
انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے مستحق
بچوں کی فیسوں کی براہِ راست اسکولوں کو ادائیگی کا طریقہ کار وضع کیا جائے۔
·
درسی کتب کے معیار کو بہتر بنایا
جائے اور ناقص کاغذ کے ذمہ داروں کا احتساب ہو۔
·
اسکول مالکان اور اساتذہ کو
"مافیا" کہنا بند کیا جائے اور انہیں ہراساں کرنے کے بجائے ان کی حوصلہ
افزائی کی جائے۔
· نجی تعلیمی ادارے حکومت کا بوجھ بانٹ رہے ہیں۔ اگر حکومت ان کی مدد نہیں کر سکتی، تو کم از کم ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا بند کیا جائے۔
تبصرہ کریں (Blog Comments Section)
آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ نیچے دیے گئے سوالات پر مہربانی کر کے اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں کریں:
· کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہمارے معاشرے استاد کی عزت نفس سے محروم ہو چکا ہے۔؟
· کیا آپ کے علاقے میں نجی سکول کے ٹیچرز سرکاری سکول کے ٹیچرز جتنی تنخواہ لیتے ہیں؟
· کیا حکومت کو نجی سکولوں"امداد" کرکے بہتر بنا سکتے ہیں۔؟
· کیا آپ سمجھتے ہیں کہ نجی سکول کا خرچ جو ہے وہ حکومت کو سرکاری سکول جتنا ہی ہوتا ہے؟

1 Comments
good news
ReplyDelete