Episode No. 6 اپنا درد تو سب کو درد لگتا ہے، بیگانہ ڈرامہ

 اپنا درد تو سب کو درد لگتا ہے، بیگانہ ڈرامہ

باب نمبر 1 

مشن اورعشق کا آغاز، منافقت کے جال کی ابتدا

the echo of Pain
Romantic Urdu Novel
 کیونکہ وہ ایک خوبصورت شکل کی مالک  ہوتی ،  پھر رنگ بھی سفید ، نین نقش بھی اچھے ہوتے ہیں،اور اپنے آپ کو اچھے طریقے سے  صبح تیار کرکے  Make upکرکے، اپنے ڈریس کے مطابق آتی ہے۔   مگر عمی کوکبھی بھی وہ متاثر نہیں  کرسکی تھی۔اُس میں چیز نہیں ہوتی جو شاید عمی تلاش کرتا ہے۔ وہ اپنے کو ایک جدید فیشن کی دلدداہ ثابت کرناچاہتی ہے۔ عمی کو بتانا کہ   ہم گھومنے پھرنے اور کھانا اکثر باہرجاکر کھاتے ہیں، ہماری تو دعوتیں ہی  ختم نہیں ہوتی ہیں، مگر عمی کو ان چیزیں کی کوئی پرواہ نہ تھی۔ کیونکہ عمی نے آج تک مجھ سے ،کبھی ذکر ہی نہیں کیا  ہوتا،نہ ہی اُس کے بارے میں کوئی محبت پیار کا  اشارہ دیا ہوتا ہے۔ تو اس کا مطلب ہےکہ عمی  کے دل میں ایسی  کوئی  بات نہ تھی۔ مگر عمی ایسی ہزاروں بڑی اور ان سے ہزار درجے بہتر دعوتیں، شہراور ملکوں کی سیرکرچکا ہوتاہے۔

                کوئی کچ دا گلاس ہوندا!             تھا ں تھاں کیوں رُل دے              جے سوہنا نیت دا صاف ہوندا

                وقت کے ساتھ عمی پر بھی دُنیا کا رنگ  اور مشکل وقت نے آ لیا۔معاشرتی عناصر اُس پر اٹیک  اور حملہ کرتے ہیں ۔ مگر جس کو اللہ پر بھروسہ  ہو، وہ  کبھی نہ گبھراتا ، نہ ڈرتا ہے۔ بہت  ہی مشکل وقت اُس نے Face کیا۔  مگر عمی کو ثوبیہ پسند نہیں  ہوتی ہے۔ اس لیے وہ  کچھ بھی کر لیتی ،  وہ عمی کو متاثر  نہیں کرسکتی تھی۔  اب یہاں پر اُس کی اچھی  دوست رُخ  بہا نے کلینک  جوائن کرنے آتی ہے ۔

                یہ تقاضہ عشق ہے یا میری آنکھوں کی مستی               کھولوں  تو دیدار تمھارا بند کروں تو تصور تمھارا

                تورُخ بہاء پہلے دن Short Time کے لیے کلینک آتی ہے، وہ بھی کوئی آدھا گھنٹے  کے لیے۔  مگر ثوبیہ اُس کو  ڈاکٹر انعام سےملاتی ہے ،  کیونکہ عمی اس وقت کسی کام  مصروف ہوتا ہے۔ کیونکہ رُخ بہاء  ثوبیہ کی بہت اچھی دوست ہوتی ہے۔  مگر ثوبیہ بہت ہی مطلب پرست، خود غرض ہوتی ہے۔  مگر جب ثوبیہ، رُخ بہاء کوعمی سے ملاتی ہے ۔ مگر اس سے پہلے، عمی، رُخ بہاء کے پاس گذرتے ہوئے، اُس کو  پیچھے سے دیکھتا ہے۔عمی ایک کشش محسوس کرتا ہے۔ عمی بار بار پلٹ کر ضرور دیکھتا ہے اور وہ خود بھی دل  میں ایک چوٹ محسوس کرتا ہے۔ روح  کا تعلق واقعی  سب سے گہرا اور پیچیدہ  تعلق ہے۔  جب آپ کسی کی روح سے محبت کرتے ہیں،  تو یہ محبت  وقت  کے ساتھ  ختم نہیں ہوتی ہے۔  یہ نہ  چہرے  کی محتاج  ہوتی ہے ، نہ  کسی لفظ کی، نہ کسی لمحے کی،  یہ وہ محبت ہے ، جو نہ بدلتی ہے، نہ ماند پڑتی ہے۔ اور نہ ہی کسی اور میں ڈھل سکتی ہے۔  کیونکہ  روح کی محبت  خالص ہوتی ہے،  اور خالص چیز  کا کوئی  متبادل نہیں ہوتا ہے، یہ عمی کی سوچ ہوتی ہے  محبت  کے متعلق۔

                                                نوابوں کے  نواب تھے حقیر ہو گئے                       ارے ایک یار کی خاطر فقیر ہو گئے

                 اب رُخ بہاء ثوبیہ کے ساتھ عمی کے سامنےاُس کے دفتر میں  ہوتی ہے۔  اُس کو دیکھ کر ، عمی کے دل میں ایک عجیب سی ہلچل ضرورمچ جاتی ہے۔تھوڑی دیر کے لیے جیسے اُس کا دل اس کو کچھ بول رہا ہے، مگر عمی مسلسل اپنے دل کو اگنور کر رہا ہوتا ہے۔ مگر عمی  کی پہلی ہی نظر، جو رُخ بہاء پر پڑتی ہے تو عمی ایک عجیب سی  کیفیت  اپنے دل میں  محسوس کرتا ہے ۔

                                کوئی ہاتھ میں  تھامے ہاتھ  میرا                         کوئی  لے کے مجھ  کو   ساتھ  چلے
                                کوئی    بیٹھے    میرے   پہلو  میں                         میرے   ہاتھ    پہ   اپنا   ہاتھ  رکھے
                                اور  پونچھ کے آنسو  آنکھوں   سے                      وہ    دھیرے   سے    یہ  بات   کہے
                                یوں   تنہا   سفر  اب   کٹتا    نہیں                        چلو  ہم  بھی تمھارے  ساتھ   چلیں

                رُ خ بہاء ، ایک  عام سے کپڑے  پہنائے  ہوئے،  گندا، میلا سا ڈوپٹہ لے کر آتی ہے۔ میر ا خیال  ہےکہ وہ سوئی ہوئی،سیدھی بسترسے اُٹھ کرآتی ہے، منہ بھی شایداُس نے کوئی  عید کے بعد نہیں دھویا  ہے۔  اُس میں گاؤں کی لڑکی کی سادگی کی انتہا تھی  ،   اُس کو اس حالت   میں دیکھنے کے بعد، مگر ناجاننے کیوں ، عمی کی Feeling عجیب سی  ہو جاتی ہے،تھوڑی دیر کے لیے ، عمی اُس کو دیکھتا ہی رہتا ہے ،  ثوبیہ  یہ سب  کچھ اپنے دل میں محسوس کرتی ہےکہ وہ نظر جو آج تک مجھ کو نہیں ملی ،اوراس کو ایک وقت میں ہی مل گئی ہے۔    رُخ بہا آتی ہے   کوئی پانچ منٹ  عمی کو ملتی ہے  پھروہ چلی جاتی ہے۔ بس جی مجھ کو اُس میں سادگی، حیا، سیدھاپن، صاف دلی، صداقت اور شچائی نظر آتی ہے۔

                                پوچھتے      ہیں   کہ   ہوا    دل   کو                         حسن  والوں  کی  سادگی   نہ   گئی
                                ترے  عشق  کی  انتہا چاہتا  ہوں                        مری  سادگی دیکھ کیا چاہتا  ہوں         

                 رُ خ بہاء  ٹھیک ایک True and exactlyدیہاتی لڑکی ہوتی ہے، جس کو اپنے آپ پر بھروسہ ہے، جواپنی قابلیت ، لیاقت ، اہلیت، صلاحیت پریقین رکھتی ہے۔جس کونمائش، دکھاوا، مصنوعی بناوٹ، ریاکاری سےکوئی غرض نہیں ہوتی  ہے،   پھر کو ئی  ایک ہفتہ نہیں ،وہ آتی ہے، تو عمی کسی نہ کسی  بہانے سے، اُس کا ذکر ثوبیہ سے ضرورکرتا ہے۔ثوبیہ بہت ہی بے رُخی اور لاتعلقی سے جواب دیتی ہے۔   مگرعمی بیچارہ بھی کیا کرے۔  ہا ئے کمینا عشق بھی ، بابا بلھے شاہ ؒجی  جو عمی کے بہت ہی پیار ے اور پسندیدہ شاعر اور بزرگ ہستی  ہیں وہ عمی کی دل کی کیفیت کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں۔

                                میں چٹیا ں  فجراں لبدی  آں!             مینوں  گھُپ  اندھیرے   لبدے  نے
                                مینوں دل دا  محرم  نیئں   ملیا!             مینوں   یار   بتھیرلے   لبدے  نے!

                ثوبیہ بھی اب عجیب سی کیفیت میں مبتلاہو جاتی ہے۔  وہ اب رُخ بہا کو کلینک جوائن کروانے سے روکنا چاہتی ہے۔ مگر عمی کو نہیں بولتی ، مگر اُ س کی برائی ہر وقت کسی نہ کسی بہانے سےعمی سے ضرور کرتی ہے۔وہ بتاتی ہے کہ اُس کو سایہ کا نقص ہے، کسی وقت بھی ہو سکتا ، جب ہوتا ہے تو پھر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی ، اس سے کلینک کی شہرت پر بُرا اثر پڑے گا۔ لوگ پسند نہیں کرتےکہ وہ چھوٹے بچے اور جوان بچیاں یہاں بھیجے۔  اب ثوبیہ  کا کلینک میں  ، ہر روز  کسی نہ کسی سے لڑائی جھگڑا معمول کی بات ہوتی ہے۔   چاہیے تو وہ کوئی نرس ہویا پھر مریض، یا اُن کے ملنے والے۔  اس کی شکایت جب عمی کو ہوتی ہے تو وہ بہت افسردہ ہوتا ہے اور اُس کو آفس میں بلا کرسمجھتا ہے۔ کہ اِن مریضوں  کی وجہ سے کلینک چلتا ہےاگر ہم ان سے تعاون نہیں کریں گے تو کوئی ہمارے پاس کوئی نہیں آئے گا۔

                چڑی  اُ ڈ گئی ملوکاں توُ!                اُوناں نال یاری کی لانی      جہیڑے  ڈر دے  نے لوکاں تُو       

                مگر کیونکہ عمی ایک سچا اور نرم دل انسان ہے۔  اور بھی ثوبیہ کی  بہت سی شکایت آتی رہتی ہیں۔ مگر عمی اُس کو سمجھتا ہے، مگر شاید وہ عمی کے، اس احساس کو غلط رُخ دے دیتی ہے۔  مگر عمی اُس کی  کسی بات کا نوٹس نہیں لیتا ، مگر بار بار اُس کو کہتا ہےکہ رُخ بہاء  کو بولو کہ وہ جوائن کرے، مگر ثوبیہ  مختلف  بہانے کرتی ہے۔ اور اس سلسلے میں ، اس کی مدد  ،انعام کرنے کے لیے تیار ہوتاہے،اب وہ  انعام کو استعمال کرتی ہے۔

                جیناں روز اُڈیکاں  سجناں دیا ں             بووے کھلے رکھدے  نیناں دے
                                                جیناں نیناں نوں  تانگاں یاردیاں           او نین وچارے نہی سوندے              
                                                                                    اللہ جانے  وے ماہی                          وے تیرا پیار کی اے

                ڈاکٹر انعام آ کر  صاف صاف  عمی سے بولتا ہےکہ ہم نے رُخ بہا کو کلینک  جوائن نہیں کروانا ہے۔  تو انعام کو یہ سو فیصد  یقین  ہوتا ہے کہ عمی میر ی بات نہیں  ٹال سکتا، تو انعام نے ثوبیہ کے سامنے بول دیا کہ ہم نے رُخ بہا کی جگہ دوسری نئی لڑکی کو جوائن کروانا ہے ۔ اور وہ اس کے دوست کی بہن ہے۔یہاں ثوبیہ بولتی ہے ٹھیک ہے۔ مگر یہاں تک رُخ بہاء کا تعلق ہے  نہ تو اُس کا کلر اتنا اچھا ہے اور نہ ہی شکل ،  میں اُس کو بچپن سے جانتی ہوں۔ بہت وہ بہت لڑاکی ٹائپ کی لڑکی ہے۔

                ہٹیاں  تے رُوں ماہیا!           تیرے تے ہزار ہو سن،        ساڈا  کلا  کلا  توں ماہیا

بس عمی تو دیوانہ سا ہو گیا تھا اُس کا،  عشق بس  اک سے ہوتا ، اُسی پر شروع ، اُسی پر ختم یہ عمی ہے، جو اک بار  دل میں ارادہ کر لیتا ہے، بس 


نتیجہ،:

یہ  کہانی یا افسانہ نہیں ہے، یہ ایک انسان  کا پیار کا درد بھر ا ناول ہے جو قسط در قسط  اشاعت کیا  جا رہا ہے۔  بلکہ  یہ جذباتی  اتار چڑھاو  کا ایک ایسا سمندر ہے ، انسان کی سوچ کو لہروں کی  طرح  بہا لے جائے گا، اس میں ایک انسان کی سچی  محبت کی طلب ہے ، اور محبت کا  درد ہے۔   انشاء االلہ آگے  جا کر آپ کے دل کو چھو جائے گا۔  یہ ایک محبت بھر ا اور تجس سے بھر پور ہے ۔ کیا رُخ بہاء اپنے محبوب سے پیار  کا اظہار  کرے گی۔   مکمل ناول کے لیے http://urdupakista.online  پر آ کر  وزٹ ۔  دیکھو لوگ محبت میں  کس کس طرح درد لیتے ہیں۔ اور تکلیف برداشت کرتے ہیں۔ 

تبصرہ کریں               (Blog Comments Section)

آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ نیچے دیے گئے سوالات پر مہربانی  کر کے  اپنی رائے کا اظہار  ضرور کریں کریں:
 
Ø     کیا آپ کو لگتا ہے  کہ  اس ناول میں درد  کی شدت  بہت زیادہ ہے ، کیا دونوں کو ملنا چاہیے؟
Ø     ·         کیا    انسان کو محبت میں اس قدر  شامل   پاگل ہونا چاہیے۔؟
Ø     ·         کیا   کوئی اس دور میں بھی کسی سے سچی محبت   کرتا ہے؟
Ø     کیا آپ لوگوں کو نہیں لگتا  ہے کہ ایک طرف خاموش  محبت  اور دوسر ی طرف بے رُخی  ؟
Ø   
Ø     کیا محبت کا انجام  ہمیشہ  درد ہی ہوتا ہے۔ 
Ø     آنکھوں کی زبانی  محبت کا درد کیا ہوتا ہے۔ 

Episode No. 5



Hamari nayi updates ke liye follow karein:

Post a Comment

0 Comments

© Seven For Eight Hash | Urdu Pakistan — All content is original. Unauthorized use is prohibited.