حضرت امام زین العابدین علیہ السلام
![]() |
| KARBLA IMAM ZAIN |
شخصیت کا تعارف
اسلامی تاریخ میں حضرت امام زین العابدین علیہ
السلام کی شخصیت ایک ایسے روشن ستارے کی
مانند چمکتا رہے گا۔ جس نے اپنے علم، تقویٰ، صبر اور عبادت کے ذریعے
رہتی دنیا تک انسانیت رہنمائی حاصل کرتی
رہے گی۔ آپ شجرۂ نبوت کی وہ شاخ ہیں جس نے کربلا کے تپتے ہوئے صحرا کے بعد اسلام
کے پودے کو اپنے آنسوؤں اور دعاؤں سے سینچا۔ آپ کا اسمِ گرامی "علی"،
اور مشہور القابات "زین العابدین" (عبادت گزاروں کی زینت) اور
"سجاد" (بہت زیادہ سجدہ کرنے والا) ہیں۔ آپ کی زندگی کا کربلا سے پہلے
کا دور، علم کی تحصیل، تربیتِ محمدیؐ اور مدینہ کی روحانی فضاؤں میں گزرا۔ کربلا
سے پہلے بھی آپ کی زندگی
عظمت ، کردار اور روحانی بلندیوں سے بھر پورتھی ۔
ولادتِ باسعادت اور خاندان
امام زین العابدین علیہ السلام 5 شعبان المعظم
38 ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ یہ
وہ مقدس اور پاک
شہر ہے جس میں روضہ رسول ﷺ کا ہے۔ آپ کی ولادت اس وقت ہوئی جب آپ کے دادا حضرت علی
بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلافت پر فائز تھے۔ آپ کے والدِ گرامی سید
الشہداء اورحق اور باطل کے درمیان
فیصلہ کن معر کے علمبر دار ، حضرت
امام حسین رضی اللہ تعالیٰ ہیں، جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ
"حسینؑ مجھ سے ہے اور میں حسینؑ سے ہوں"۔ آپ کی والدہ محترمہ بی بی شہر بانو تھیں، جن کا تعلق ایران کے شاہی خاندان سے تھا۔ آپ
ایران بادشاہ یزدگر سوم کی صاحبزادی تھی، اس طرح آپ کی شخصیت میں عرب کے معزز ترین قبیلے
قریش اور عجم کی قدیم تہذیب کا سنگم موجود تھا، جس نے آپ کو عالمی سطح پر ایک منفرد
وقار عطا کیا۔
بچپن اور تربیت
امام زین العابدینؑ نے اپنی زندگی کے ابتدائی
دو سال اپنے دادا حضرت علی رضی اللہ
تعالیٰ عنہ کے زیرِ سایہ گزارے۔ یہ وہ دور
تھا جب خلافتِ علوی اپنے عروج پر تھی اور عدل و انصاف کے چرچے عام تھے۔ اگرچہ آپ کی
عمر بہت کم تھی، لیکن معصوم کا بچپن عام بچوں جیسا نہیں ہوتا۔ آپ مدینہ منورہ میں قرآن اور سنت کی تعلیم حاصل کی، آپ نے اپنے دادا کی گود میں وہ فیض حاصل کیا جو
بعد میں آپ کے خطبات اور دعاؤں میں نظر آیا۔ جب 40 ہجری میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ہوئی، تو امام زین العابدینؑ کے ننھے
سے دل پر پہلا بڑا صدمہ پہنچا، مگر یہاں سے ان کی تربیت کی ذمہ داری ان کے چچا
امام حسنؑ اور والد امام حسینؑ کے کاندھوں پر آگئی۔
جوانی
حضرت علی
رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے
بعد امام زین العابدینؑ نے اپنی زندگی کے اگلے دس سال اپنے چچا امام حسنؑ کی آغوشِ
تربیت میں گزارے۔ آپ علم ، اخلاق اور عبادات میں اپنی مثال آپ خود تھے، یہ دور اسلامی تاریخ کا
ایک بہت ہی اہم موڑ تھا۔ آپ نے دیکھا کہ کس طرح آپ کے چ چچا امام حسن رضی اللہ
تعالیٰ عنہ نے امتِ مسلمہ کو خونریزی سےبچایا
اور مسلم امہ کے دو بڑے گروہوں میں صلح کی اور مدینہ ہجرت کر گئے۔ مدینہ واپسی کے
بعد، امام زین العابدینؑ اپنے چچا کے ہمراہ مسجدِ نبوی میں بیٹھتے اور وہاں ہونے
والے علمی مباحثوں میں حصہ لیتے۔ آپ نے امام حسنؑ سے حلم، بردباری اور خاموش رہ کر
دین کی خدمت کرنے کا ہنر سیکھا۔ اس دور میں آپ کی علمی پختگی اس حد تک بڑھ چکی تھی
کہ مدینہ کے جید علماء آپ کے پاس فقہی مسائل کے حل کے لیے آتے تھے۔
امام حسینؑ اور علم میں کمال
50 ہجری میں امام حسنؑ کی شہادت کے بعد امامت کی
ذمہ داری امام حسینؑ پر آئی، اور امام زین العابدینؑ اپنے والد کے سب سے قریبی
معتمد اور شاگرد بن گئے۔ اس دہائی میں آپ نے مدینہ منورہ میں علم و شعور کے وہ دریا بہائے کہ لوگ آپ کو "فقہیہ ہاشمی"
کے نام سے پکارنے لگے۔ آپ کی عبادت کا یہ عالم تھا کہ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے
تو فرماتے کہ "میں اس ہستی کے سامنے کھڑا ہوں جو کائنات کا مالک ہے"۔
آپ کا
صبر بھی مثالی تھا، آپ اپنے دشمنوں کو بھی دُعا کرتے، کبھی بدُعا نہ دیتے، آپ کی
سماجی خدمات بھی اس دور کا خاصہ تھیں۔ آپ رات کے اندھیرے میں اپنی پیٹھ پر آٹے کے
تھیلے لاد کر مدینہ کی گلیوں میں نکلتے اور
غریبوں کے گھروں کے باہر کھانا رکھ دیتے۔ یہ سلسلہ برسوں چلتا رہا اور کسی کو
معلوم نہ ہو سکا کہ یہ "ناشناس سخی" کون ہے، یہاں تک کہ آپ کی وفات کے
بعد جب غریبوں کے گھروں میں کھانا پہنچنا بند ہوا، تب اہل مدینہ کو احساس ہوا کہ
وہ امام زین العابدینؑ ہی تھے۔
سیاسی اور بیعت کا مطالبہ
60 ہجری میں امیرِ معاویہ کی وفات کے بعد جب یزید
تخت نشین ہوا، تو اس نے مدینہ کے گورنر ولید کو خط لکھا کہ امام حسینؑ سے جبری بیعت
لی جائے۔ اس وقت امام زین العابدینؑ کی عمر مبارک تقریباً 22 سال تھی۔ آپ نے دیکھا
کہ کس طرح آپ کے والد نے باطل کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دیا۔ جب امام حسینؑ
نے مدینہ چھوڑ کر مکہ جانے کا فیصلہ کیا، تو امام زین العابدینؑ اپنے پورے خاندان
کے ساتھ اس کٹھن سفر پر روانہ ہوئے۔ مدینہ سے مکہ تک کے سفر میں آپ اپنے والد کے
دستِ راست رہے اور قافلے کی حفاظت و انتظام میں اہم کردار ادا کیا۔
مکہ اور کربلا کا سفر
مکہ میں قیام کے دوران امام زین العابدینؑ نے دیکھا
کہ کس طرح کوفہ سے خطوط کا تانتا بندھ گیا ہے۔ آپ اپنے والد کے ہمراہ بیت اللہ کی
حرمت کا خیال رکھتے ہوئے حج کو عمرے میں تبدیل کر کے کربلا کی جانب روانہ ہوئے۔ اس
سفر کی ہر منزل پر امام زین العابدینؑ اپنے والد کے ساتھ رہے۔ آپ ہر مقام پر ،آپ
نے اپنے والد کو یہ کہتے سنا کہ "خدا کی قسم! ہم حق پر ہیں اور ہمیں موت کی
کوئی پرواہ نہیں"۔ امام زین العابدینؑ کی جوانی کا یہ دور عزم و استقلال کی
انوکھی داستان ہے۔ آپ نے اپنے بھائیوں (علی اکبرؑ، علی اصغرؑ) اور چچا زاد بھائیوں
کے ساتھ مل کر اس قافلے کی رونق کو برقرار رکھا۔ مکہ میں آپ نے زیادہ وقت عبادت اور
دعا میں گزار تھا اور حالات
امت کو بہت قریب سے مشاہدہ کیا تھا۔
کربلا اور بیماری
2 محرم 61 ہجری کو جب یہ قافلہ کربلا میں پہنچا، تو امام زین العابدینؑ ایک توانا
جوان تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا ارداہ
اور حکمت و فیصلہ ٰ کچھ
اور ہی تھی۔ 10 محرم سے چند دن قبل آپ کو
شدید بخار نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ بیماری اللہ کی ایک عظیم حکمت تھی کیونکہ
اگر امام زین العابدینؑ تندرست ہوتے تو وہ کبھی بھی اپنے والد کو تنہا میدان میں
نہ جانے دیتے اور درجہ شہادت پر فائز ہو جاتے۔ اللہ کو منظور تھا کہ زمین پر حجتِ
خدا باقی رہے اور امامت کا سلسلہ آپ کے ذریعے چلے۔ اسی بیماری کی حالت میں آپ نے
کربلا کے وہ ہولناک مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ، جن کا تصور بھی مم
کن نہیں۔

0 Comments