بے نظیر انکم سپورٹ
آج میں ایک ایسے موضوع پر بات کرنا چاہتا ہوں. بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پاکستان میں غریب اور کمزور طبقات کے لیے ایک اہم سہارا ہے۔ اس کا مقصد معاشرتی انصاف قائم کرنا اور ضرورت مند خاندانوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنا ہے۔ یہ
![]() |
| Financial Aid or the Death of National Self Respect |
تعلیمی
وظائف
حکومت والدین کو بے نظیر انکم سپورٹ ذریعے پیسے دیتی ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کو اسکول بھیجیں اور ان کی تعلیم کا خرچ اٹھا سکیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ غریب اور مستحق خاندانوں کے بچوں کے لیے تعلیمی و ظائف ایک بہت ہی اچھا پروگرام ہے۔
عورت یعنی ماں اس کفالت پروگرام میں رجسٹر ہونا لازم ہے۔ یہ سارے کام کوئی چار مرحلوں میں ہوتے ہیں۔
طلبہ کی سکول میں حاضر ی کم از کم 70 فیصد ۔
طلبہ کا فارم ب لازم ہے نادرا کا۔
اس آفس میں میں داخلہ فارم حاصل کریں۔
سکول کے پرنسپل سے مکمل کروا کر دستخط کر وائیں۔
پھر فارم واپس آفس میں جمع کروائیں۔
پڑتال کے بعد وظیفہ جاری ہو جاتا ہے.
بچوں کو فیس 1500 پرائمری ، اور 2500 چھٹی سے دہم، اور 3500 کالج لیول کی ہوتی ہے ،
بچیوں کو کوئی 3000 روپے بونس بھی دیا جاتا ہے۔ جب وہ پرائمری کلاس پاس کرتی ہیں۔
بے نظیر انکم سپورٹ کی آفیشل سائٹ پر جا کر آپ اس کی تمام پا لیسیز اور تفصیلات کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ جس میں اہلیت اور تعلیمی وظائف کی معلومات موجود ہیں۔
https://bisp.gov.pk/
نوٹ: یہ آپ کویہ لنک بےنظیر انکم سپورٹ کی ویب سائٹ پر لے جائے گا۔
لیکن زمینی حقیقت کیا ہیں۔
والدین وہ
رقم بے نظیر انکم سپورٹ سے وصول کر لیتے
ہیں لیکن اسکول کی فیس ادا نہیں کرتے۔ وہ یہ پیسہ اپنے ذاتی کاموں یا گھر کے راشن یا اپنی عیاشی میں استعمال کر لیتے ہیں۔ اس کو اصل کام کے لیے استعمال کرتے ہی نہیں ہیں۔ جب
اسکول انتظامیہ فیس کا مطالبہ کرتی ہے، تو یہی والدین بدتمیزی کرتے ہیں اور
اسکولوں کو بلاوجہ تنگ کرتے ہیں۔ بیچارے پرائیویٹ اسکول، جو پہلے ہی مشکل سے چل
رہے ہیں، ان والدین کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے دیوالیہ ہونے کے قریب ہو جاتے ہیں۔
فیس کی ادائیگی
اگر یہ ہی
رقم متعلقہ نجی یا سرکاری
سکول کو برائے راست ادائیگی
کی جائے، جس سکول سے اُس بچے کی
حاضری جا رہی ہے۔ تاکہ اس سکول
کے اپنے اخراجات بھی پورے ہوں۔ اس
سے بڑا مسئلہ سرکاری سکول
میں تعلیم مفت ہوتی ہے تو پھر کیوں
اُن کو یہ رقم کیوں دی جاتی ہے۔ اس سے
اُن والدین کی حق تالفی ہوتی ہے، جن کے
بچے نجی سکول میں پڑھتے ہیں۔
محنت
سے دوری
اس نظام نے
لوگوں کو "ذہنی بھکاری" بنا دیا ہے۔ اب لوگ محنت مزدوری کرنے کے بجائے
ہر مہینے "قسط" کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں۔ اُن کوحلال و حرام کی
تمیز خاتم ہو چکی ہے۔ لوگ یہ نہیں سوچتے
کہ وہ اس امداد کے حقدار ہیں یا نہیں۔ ہر کسی کی تڑپ ہے کہ بس مفت کا پیسہ مل جائے۔
اس میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو حقیقت میں غریب نہیں ہیں، بلکہ
وہ کسی اصل حقدار کا لقمہ چھین کر یہ امداد لے رہے ہیں۔ اس میں
سب لوگوں کو ایک لاکھ امداد کی جائے اور ایک لاکھ یا دو
لاکھ قرض دیا جائے۔ تا کہ وہ کوئی کاروبار کر سکیں۔ بلکہ
ان جو بھی کاروبار دیا جائے ، بے نظیر انکم سپورٹ والے ہی
وہ کاروبار ان سے کروائیں۔ وہ خود
ہی ان سے وہ چیزیں خرید یں۔ تاکہ اس سے ملک کو بھی فائد ہ ہو گا۔
ان روزگار
دیں، پیسے نہ دیں
میرا مشورہ
یہ ہے کہ حکومت لوگوں کو ہر مہینے ایک مخصوص رقم
کی خیرات دے کر انہیں اپاہج نہ بنائیں۔ بلکہ حکومت کو چاہیے کہ ان لوگوں کو ایک یا دو لاکھ روپے کی
یکمشت رقم دے تاکہ وہ اپنا کوئی چھوٹا کاروبار (جیسے سلائی کڑھائی، مرغی خانہ یا
دکان) شروع کر سکیں۔ کیونکہ گاؤں میں یا چھوٹے شہروں میں عورتیں دیسی مرغیاں کا کاروبار آسانی سے کر سکتی ہیں۔ جب
لوگ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے، تو وہ اسکول کی فیس بھی عزت سے دیں گے اور ملک کی
معیشت میں بھی حصہ ڈالیں گے۔
تبصرہ
کریں (Blog Comments Section)
آپ کی اس
بارے میں کیا رائے ہے؟ نیچے دیے گئے سوالات پر مہربانی کر کے اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں کریں:
·
کیا آپ کو
لگتا ہے کہ نقد رقم بانٹنے سے ملک سے غربت ختم ہو سکتی ہے؟
·
کیا آپ کے
علاقے میں بھی ایسے والدین ہیں جو امداد لینے کے باوجود اسکول کی فیس ادا نہیں
کرتے؟
·
کیا حکومت
کو "امداد" کے بجائے "کاروباری قرضے" دینے چاہئیں؟
·
کیا آپ
سمجھتے ہیں کہ اس پروگرام میں شامل اکثر لوگ نااہل ہیں اور دوسروں کا حق مار رہے
ہیں؟

0 Comments