Episode No. 5 اپنا درد تو سب کو درد لگتا ہے، بیگانہ ڈرامہ

 اپنا درد تو سب کو درد لگتا ہے، بیگانہ ڈرامہ

باب نمبر 1 

مشن اورعشق کا آغاز، منافقت کے جال کی ابتدا

Love and Romantic
www.urdupakista.online
کوٹ سلطان،  ایک قصبہ نما سا ایک گاؤں ہے۔ جو منڈی بہاؤدین شہر سے 14 کلو میٹر کے فاصلہ پر موجود ہے۔جو ایک نہایت ہی خوبصورت، نہری اور  میدانی علاقہ ہے۔ یہاں پر،  سال میں تقریباََ چار موسموں کا خوبصورت سا سما ء ہوتا ہے۔ ہر طرف ہریالی اور سرسبز کھیت ہیں۔ گرمیوں میں سخت گرمی اور سردیوں میں سخت سردی ہوتی ہے۔ یہاں پر ، جب ڈاکٹر عمران علی اعظم نے اپنا کلینک  بہت پر جوش طریقے سے شروع کیا، تو بہت ہی خوش ہوتا ہے۔ اور وہ  اپنی  کلینک کی زندگی میں،  اتنا  مگن ہو جاتا ہے  کہ اُس کو محسوس یا حساس  ہی نہ ہو سکا کہ  اس دُنیا کی بھی ، اپنی ایک چال ہے۔کوئی کسی کی قدرنہیں کرتاہے۔   ہر انسان اپنے  مطلب کے لیے کسی کو استعمال کرتاہے۔لیکن ڈاکٹر عمران عرف  عمی کوصرف  یہ ہی ہوتا ہےکہ وہ کسی نہ کسی طریقےسے ، اپنے  کلینک کو کامیاب کرکے ،  ایک اچھے ہسپتال کی شکل دے دے ،  وہ بہت محنت کرتا  ہے۔ مگر کچھ مطلب پرست دوست اُس کے اردگرد اس طرح جمع ہو  جاتے ہیں کہ  اُس کو ، اُن کی سمجھ ہی نہ آسکی۔   کیونکہ وہ خود  ایک سچا اور مخلص انسان  ہوتا ہے، اُس کو، کسی چال کی کوئی  پراہ نہیں ہوتی ہے۔

اس افسانے کے کردار ہیں۔                 ڈاکٹر عمران  عرف عمی        نرس  رخُ بہا،    نرس ثوبیہ ،    نرس شمران،                 نرس  شازو،  
                                                ڈاکٹر انعام دوست ڈاکٹر عمران کا          ، چیئرمین دوست عمی کا                    
                                میں خود ڈاکٹر علیم الدین۔ ڈاکٹر عمران کا دوست ، ہم راز اور جگری یار 

                جب وہ کلینک کو ڈاکٹر عمران اور اپنے دوست ڈاکٹر انعام کے ساتھ مل کر شروع کرتا ہے شروع کرنے کے   چند دنوں بعدہی نرس ثوبیہ ،  نرس شمران اور  نرس  شازونے کلینک  کوجوائن  کرتی ہیں۔  کلینک اب اللہ کے فضل وکرم سے اپنا عملی طور پر کام شروع  کر دیتا ہے۔۔ یہ حقیقت ہے کہ  شروع میں ،انعام نے عمی کا بہت ساتھ دیتا ہے، اور ہر جگہ وہ اُس کے ساتھ ہوتا ہے، عمی بھی اُس پر حد سے زیادہ اعتماد کرتا  ہے، یہاں تک کہ اسٹاف رکھنا یا   نہ رکھنا یہ بھی تقربیاً انعام کے اختیار میں ہی ہوتا ہے۔ 

یارا ! میلے وچوں ملدا کچھ نیئں، او منتاں نال یار تھوڑی  ملا دا اے
بابا بلھیا  کہندا!
زہر ویکھ کے پیتا ، تے کی پیتا    ،  عشق سوچ کے کیتا ، تے کی کیتا
دل دے کے،  دل لین دی ،  آس رکھی،         اُس کولوں بلھیا
پیار  وی لالچ نال کیتا    تے کی کیتا یار بلھیا 

میں علیم الدین، عمی کو  بہت سمجھاتا ہوں ۔  کچھ میری مصروفیات  کی وجہ ،دوسرا عمی کی دلچشپی  دوسروں میں دیکھ  کر ، پھر  وقت  کے ساتھ   سا تھ ،میں خود اُس سے تھوڑا سا دور ہو جاتا ہوں، مگر پھر بھی  اُس کے دُکھ درد  میں  اُس کا ساتھی رہتا ہوں۔ اپنے دل کی ہر بات  پھر بھی وہ میرے سے  ہی Shareکرتا ہے۔  اکثر اُس کا میرے گھر آنا  جانا ہوتا  رہتا ہے۔  میں ایک ہی بات اُس کو بولتاہوں کہ یار ! انعام سے بچو! عمی کا انعام پر بہت زیادہ یقین بنا چکا ہوتا ہے۔ یہاں تک  کہ کلینک کو  کھولنایا بند کرنا  ،یہ سب اکثر  انعام ہی کرتا ہے۔مگر کیونکہ  عمی کا دل صاف اور مخلص انسان ہوتا ہے۔  اُس کو انعام  سے، کسی قسم کی کوئی غرض یا مطلب  نہیں ہوتاہے ،  اس لیے وہ سب سے زیادہ  محنت اور لگن پر یقین رکھتا ہے۔  کیونکہ وہ ایک صاف دل رکھنےوالا انسان   ہوتا ہے ، اُس میں فریب ، چا رسو بیسیں  نہیں ہوتی ہیں ۔ مگر میر ا  خیال ہے کہ  عمی کو مواقع کی نزاکت کے مطابق چلنا چاہیے تھااور تھوڑا سا، اپنے ارد گرد  کےماحول کابھی خیا ل رکھنا چاہیے تھا۔وہ اس سے بے خبر ہوتا ہے کہ اُس  کے خلاف کون سا جال  بُن جا رہے ہیں، اور پھر وہ اُس جال میں  بہت ہی بُری طرح پھنس ہی جاتا ہے۔

                                مطلبی لوگ کھڑے ہیں ہاتھ میں پتھر لیکر                                 میں کہاں تک بھاگوں شیشے کا مقدر لیکر

                نرس ثوبیہ،  ڈاکٹر عمران میں دل چپسی لینا شروع کردیتی ہے  ۔ شروع میں عمی اُس کو ایک عام سی Dealing تصور کرتا ہے ، مگر رفتہ رفتہ وہ عمی  کے کام پر بہت زیادہ  اثر انداز ہونے کی کوشش کرنی شروع کر دیتی  ہے۔ مگر عمی پھر بھی ،اُس کا کوئی  خاص نوٹس نہیں لیتا اور  مسلسل نظر انداز  کرتا ہے ،  مگر خُدا گواہ    ہے کہ عمی کو، اُس   میں کوئی دل چپسی کی حقیقت نہیں ہوتی ہے ۔  کیونکہ  وہ اُس کو ایک خود غرض، لالچی اور  شو پیس طرز کی لڑکی تصور کرتا ہے۔

                 یہ سچ بھی  ہےکہ،  پھر بھی وہ اپنے کلینک کو چلانے کے لیے، اُس  کی ہر بات کو کسی حد تک  قبول کرتا ہے۔ مگر کئی بار وہ اٗس کی دلچسپی کو محسوس بھی کرتا ہے ، مگر وہ اُس کوIgnore کرتا ہے اورعمی کا دل کسی طور پر بھی اُس کو قبول نہیں کرتا ہے۔ مگر ثوبیہ  اس کا فائد ہ اٹھاتے ہوئے، کچھ  ایسے اقدام کرتی ہے ، جس میں اُس کی مدد ،کس حد تک ڈاکٹر انعام بھی کرتا  ہے۔ مگر وہ اس کو ،ایک حد تک  ،ایک عام سی بات تصور کرتا ہے۔ ثوبیہ  بھی بہت کوشش کرتی ہے کہ میری کسی طر ح عمی سے بات ہو جائے، وہ طرح طرح کے بہانے کرکے  عمی کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔وہ اب دل ہی دل میں عمی کو بہت چاہنے لگتی  ہے، اُس کو، کسی نرس کا ،عمی کے آفس میں جانا اچھا نہیں لگتاہے۔ اور نہ ہی اُس کو یہ اچھا لگتا ہے کہ عمی کسی نرس سے بات چیت کرے۔  مگر عمی اُس کو ایک ہوائی چال سمجھتا ہے،  وہ ایک ہوا کےجھونکا کی طرح ہے۔ عمی اُس کے متعلق  ایسا سوچتا ہی نہیں ہے۔ جیسا وہ چاہتی ہے۔

میں علیم الدین، عمی کو  بہت سمجھاتا ہوں ۔  کچھ میری مصروفیات  کی وجہ ،دوسرا عمی کی دلچشپی  دوسروں میں دیکھ  کر ، پھر  وقت  کے ساتھ   سا تھ ،میں خود اُس سے تھوڑا سا دور ہو جاتا ہوں، مگر پھر بھی  اُس کے دُکھ درد  میں  اُس کا ساتھی رہتا ہوں۔ اپنے دل کی ہر بات  پھر بھی وہ میرے سے  ہی Shareکرتا ہے۔  اکثر اُس کا میرے گھر آنا  جانا ہوتا  رہتا ہے۔  میں ایک ہی بات اُس کو بولتاہوں کہ یار ! انعام سے بچو! عمی کا انعام پر بہت زیادہ یقین بنا چکا ہوتا ہے۔ یہاں تک  کہ کلینک کو  کھولنایا بند کرنا  ،یہ سب اکثر  انعام ہی کرتا ہے۔مگر کیونکہ  عمی کا دل صاف اور مخلص انسان ہوتا ہے۔  اُس کو انعام  سے، کسی قسم کی کوئی غرض یا مطلب  نہیں ہوتاہے ،  اس لیے وہ سب سے زیادہ  محنت اور لگن پر یقین رکھتا ہے۔  کیونکہ وہ ایک صاف دل رکھنےوالا انسان   ہوتا ہے ، اُس میں فریب ، چا رسو بیسیں  نہیں ہوتی ہیں ۔ مگر میر ا  خیال ہے کہ  عمی کو مواقع کی نزاکت کے مطابق چلنا چاہیے تھااور تھوڑا سا، اپنے ارد گرد  کےماحول کابھی خیا ل رکھنا چاہیے تھا۔وہ اس سے بے خبر ہوتا ہے کہ اُس  کے خلاف کون سا جال  بُن جا رہے ہیں، اور پھر وہ اُس جال میں  بہت ہی بُری طرح پھنس ہی جاتا ہے۔

                                مطلبی لوگ کھڑے ہیں ہاتھ میں پتھر لیکر                                 میں کہاں تک بھاگوں شیشے کا مقدر لیکر 

                نرس ثوبیہ،  ڈاکٹر عمران میں دل چپسی لینا شروع کردیتی ہے  ۔ شروع میں عمی اُس کو ایک عام سی Dealing تصور کرتا ہے ، مگر رفتہ رفتہ وہ عمی  کے کام پر بہت زیادہ  اثر انداز ہونے کی کوشش کرنی شروع کر دیتی  ہے۔ مگر عمی پھر بھی ،اُس کا کوئی  خاص نوٹس نہیں لیتا اور  مسلسل نظر انداز  کرتا ہے ،  مگر خُدا گواہ    ہے کہ عمی کو، اُس   میں کوئی دل چپسی کی حقیقت نہیں ہوتی ہے ۔  کیونکہ  وہ اُس کو ایک خود غرض، لالچی اور  شو پیس طرز کی لڑکی تصور کرتا ہے۔ 

                 یہ سچ بھی  ہےکہ،  پھر بھی وہ اپنے کلینک کو چلانے کے لیے، اُس  کی ہر بات کو کسی حد تک  قبول کرتا ہے۔ مگر کئی بار وہ اٗس کی دلچسپی کو محسوس بھی کرتا ہے ، مگر وہ اُس کوIgnore کرتا ہے اورعمی کا دل کسی طور پر بھی اُس کو قبول نہیں کرتا ہے۔ مگر ثوبیہ  اس کا فائد ہ اٹھاتے ہوئے، کچھ  ایسے اقدام کرتی ہے ، جس میں اُس کی مدد ،کس حد تک ڈاکٹر انعام بھی کرتا  ہے۔ مگر وہ اس کو ،ایک حد تک  ،ایک عام سی بات تصور کرتا ہے۔ ثوبیہ  بھی بہت کوشش کرتی ہے کہ میری کسی طر ح عمی سے بات ہو جائے، وہ طرح طرح کے بہانے کرکے  عمی کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔وہ اب دل ہی دل میں عمی کو بہت چاہنے لگتی  ہے، اُس کو، کسی نرس کا ،عمی کے آفس میں جانا اچھا نہیں لگتاہے۔ اور نہ ہی اُس کو یہ اچھا لگتا ہے کہ عمی کسی نرس سے بات چیت کرے۔  مگر عمی اُس کو ایک ہوائی چال سمجھتا ہے،  وہ ایک ہوا کےجھونکا کی طرح ہے۔ عمی اُس کے متعلق  ایسا سوچتا ہی نہیں ہے۔ جیسا وہ چاہتی ہے۔

نتیجہ،:

یہ  کہانی یا افسانہ نہیں ہے، یہ ایک انسان  کا پیار کا درد بھر ا ناول ہے جو قسط در قسط  اشاعت کیا  جا رہا ہے۔  بلکہ  یہ جذباتی  اتار چڑھاو  کا ایک ایسا سمندر ہے ، انسان کی سوچ کو لہروں کی  طرح  بہا لے جائے گا، اس میں ایک انسان کی سچی  محبت کی طلب ہے ، اور محبت کا  درد ہے۔  جو آپ کو قسط در قسط  بتایا جائے گا۔  انشاء االلہ آگے  جا کر یے آپ کے دل کو چھو جائے گا۔  یہ ایک محبت بھر ا اور تجس سے بھر پور ہے ۔ کیا رُخ بہاء اپنے محبوب سے پیار  کا اظہار  کرے گی۔   مکمل ناول کے لیے http://urdupakista.online  پر آ کر  وزٹ ۔ تدیکھو لوگ محبت میں  کس کس طرح درد لیتے ہیں۔ اور تکلیف برداشت کرتے ہیں۔ 

تبصرہ کریں               (Blog Comments Section)

آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ نیچے دیے گئے سوالات پر مہربانی  کر کے  اپنی رائے کا اظہار  ضرور کریں کریں:
 
Ø     کیا آپ کو لگتا ہے  کہ  اس ناول میں درد  کی شدت  بہت زیادہ ہے ، کیا دونوں کو ملنا چاہیے؟
Ø     ·         کیا    انسان کو محبت میں اس قدر  شامل   پاگل ہونا چاہیے۔؟
Ø     ·         کیا   کوئی اس دور میں بھی کسی سے سچی محبت   کرتا ہے؟
Ø     کیا آپ لوگوں کو نہیں لگتا  ہے کہ ایک طرف خاموش  محبت  اور دوسر ی طرف بے رُخی  ؟
Ø     کیا انسان کو کسی کی محبت میں اس  قدر پاگل ہونا چاہیے۔
Ø     کیا محبت کا انجام  ہمیشہ  درد ہی ہوتا ہے۔ 
Ø     آنکھوں کی زبانی  محبت کا درد کیا ہوتا ہے۔ 

               

               

 

 





Hamari nayi updates ke liye follow karein:

Post a Comment

0 Comments

© Seven For Eight Hash | Urdu Pakistan — All content is original. Unauthorized use is prohibited.