The Journey of Patient Imam Zain Ul Abedin A S from Karbala to madina

 حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کا شام سے مدینہ کا سفر

Historical Journey of Karbala Imam Zain ul Abiden AS
Imam Zain ul Abideen A.S
 حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کا شام سے مدینہ واپسی کا سفر تاریخِ انسانیت کا وہ تکلیف  کا ایک دروازہ  ہے، جس نے ظلم  و ستم کی بنیادیں  کو دُنیا  والوں کو بتا دیا  ہے ۔ کہ رب کی رضا میں  صبر ہی کامیابی  کا نشان ہے۔ یہ سفر صرف ایک  علاقوں  کے درمیان سفر نہیں  تھا، بلکہ یہ ایک "خاموش انقلاب" تھا ،جو زنجیروں کی جھنکار اور کٹے ہوئےسروں  کی داستان سناتا ہوا ۔دمشق سے مدینہ  منورہ پہنچا تھا، آپ  پورے سفر میں بیماری اور کمزوری کے باوجود پورے قافلے کو صبر اور حوصلہ دیتے رہے۔

 دمشق سے روانگی

یزید کے دربار میں دمشق  کے گلی  محلے میں  امام سجاد علیہ السلام اور جنابِ زینب سلام اللہ علیہا کے خطبات  اور حق بات نے وہ  رنگ دکھایا کہ  یزید   روح کانپ  ااٹھی تھی، دمشق  کے علاقے اور یزید   کے دربار کا ماحول  ہی یزید کے خلاف ہونے لگا۔ جب یزید نے  محسوس کیا کہ اہل بیت کا قیام  دمشق می اس  کی حکومت  کے لیے  بہت بڑا خطرہ ہے، تو یزید نے  اہل بیت کو مدینہ منورہ واپس بھیجے کا فیصلہ کیا ،  تو اس نے امام زین العابدین علیہ السلام  کو  اپنے دربار میں بلا کر کہا کہ "آپ  واپس جانے کے لیے جو چاہیں مانگ لیں۔"

امام سجاد علیہ السلام نے  برے تین مطالبات ک یزید کو بولے !

·         ہمیں اپنے شہیدوں  کی یاد اور سوگ  میں عزاداری کی اجازت دی جائے۔ اور اس پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔

·         ہمارا لٹا ہوا سامان ،  کپڑے  اور ذاتی اشیاء ، جس میں تبرکاتِ انبیاء بھی تھے،  واپس کیا جائے۔

·         اہل بیت کو حفاظت  کے ساتھ مدینہ  منورہ پہنچایا جائے۔ تاکہ ہم اپنے گھروں اور  اپنے  رشتے داروں میں واپس جا سکیں۔

یزید نے یہ  سب مطالبات   مان  لیے اور اہل بیت کو  قید سے رہا کر دیا۔ دمشق کے ایک محلے میں سات دن تک   شہیدوں  کی یاد  اور سوگ مجلسِ عزا   کی گئی ، جہاں پہلی بار  دمشق کی عورتوں نے کربلا کے  ظلم و ستم اور اصل حقائق سنے اور  بہت زیادہ  اہل بیت کے غم میں شریک ہوئیں ۔

واپسی سفر کی تیاری  

یزید نے ایک دستہ قافلے کے ساتھ  روانہ کیا ،جس کی قیادت نعمان بن بشیر کر رہے تھے۔  اس بار سفر قید کی سختی کے مقابلے میں نسبتاً نرم تھا، مگر دلوں کا غم پہلے سے زیادہ گہرا تھا۔ امام زین العابدین علیہ السلام نے اس پورے سفر میں  اپنی امامت کی شان و شوکت  کو  برقرار رکھا  تھا، کہ راستے میں آنے والے قبیلے آپ کی  نبی پاک سے نسبت  کی  تعلق کو ادب  کے ساتھ  دیکھتے تھے ، آپ کےچہرے مبارک کے نور کو  دیکھ کر  حیران رہ جاتے۔ آپ کے پاؤں میں بیڑیوں کے نشانات ابھی  تک تازہ تھے، لیکن آپ کی  ماتھے مبارک پر سجدوں کا نور  چمک رہا تھا۔

سفرِ کربلا

قافلہ جب شام کی سرحدوں سے نکل کر عراق کی طرف مڑا، تو ایک مقام پر امام سجاد علیہ السلام نے  نے قافلے کے لیڈر سےبولا:  "ہمیں اس راستے سے لے چلو ،جو راستہ  کربلا کی طرف  سے ہوتا ہوا مدنیہ منورہ جاتا ہے۔"

·         20 صفر سن 61 ہجری کو یہ لٹا ہوا قافلہ کربلا کی تپتی  ہوئی سرزمین پر پہنچتا ہے۔ یہ وہ مقام تھا جہاں امام سجاد علیہ السلام نے اپنی آنکھوں  کے سامنے سے اپنے باپ، بھائیوں اور چچاؤں کو ظلموں  کے ہاتھوں ظلم کی ہر آخری حد  دیکھی تھی اور اپنے سب اپنے سامنے    ذبح ہوتے  ہوئے  دیکھے تھے۔

·         جابر بن عبداللہ انصاری کو جب   حضرت امام حسین  علیہ  السلام   کی شہادت کی خبر مدینہ میں  ملتی ہے۔ تو فوراََ  کربلا  میں آ جاتے ہیںَ ، کیونکہ آپ بہت ہی  بوڑھے اور   نابینا  ہو چکے ہوتے ہیں۔ آپ اپنے ایک شاگرد کے ساتھ  کربلا  آتے ہیںَ۔ جب اہل بیت  کربلا میں پہنچے، تو وہاں رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی حضرت جابر بن عبداللہ انصاری اپنے غلام عطیہ کے ساتھ زیارت میں مصروف تھے۔ امام سجاد  علیہ السلام نے جابر کو گلے لگایا اور رو کر فرمایا: "اے جابر! یہیں ہمارے  اپنے سب  شہید کیے گئے، یہیں ہمارے بچے ذبح ہوئے اور یہیں ہماری چادریں چھینی گئیں۔"

·         تین دن تک کربلا کی مٹی پر  اہل بیت  اپنوں کے غم میں روتے رہے ۔ بیبیاں اپنے عزیزوں  اور پیاروں کی قبروں سے لپٹ کر روتی رہیں۔ امام سجاد  علیہ السلام  نے یہاں اپنے والد کی قبر کی دوبارہ زیارت کی ، اور اپنے بابا  کی قبر مبارک پر سر رکھ کر  بولے بابا ہم  کو آپ کے بعد قید ی بنا کر  بازار میں ننگے سر پھرایا گیا ۔ کربلا کے پیغام کو  تاحیات کائنات تاریخ میں  ہمیشہ  کے لے زندہ  کر دیا۔

کربلا سے مدینہ منورہ کا سفر

کربلا سے روانگی کے بعد اہل بیت کا  قافلہ حجاز کی سمت بڑھا۔ یہ راستہ لمبااور بہت ہی مشکل تھا۔ امام  وقت  اما م زین العابدین علیہ السلام کی حالت یہ تھی کہ آپ پورے راستے  بہت ہی خاموش رہتے یا ذکرِ الٰہی میں مشغول  رہتے۔

 راستےمیں جہاں کہیں قافلہ رکتا، لوگ امام وقت  کی زیارت کے لیے آتے۔ امام  علیہ السلام اپنی حالتِ زار اور مظلومیت کے ذریعے لوگوں کو بتاتے کہ کس طرح نواسہ رسول  ﷺ کو تین دن کا پیاسا رکھ  کر  ذبح کیا گیا۔ آپ کے آنسو سب سے بڑی تبلیغ بن گئے۔

 مدینہ کے باہر  قیام

جب مدینہ کے درخت نظر آنے لگے، تو امام  سجاد  علیہ السلام کے حکم پر شہر سے باہر خیمے لگائے گئے۔ امام  سجاد علیہ السلام  نہیں چاہتے تھے کہ اچانک شہر میں داخل ہو کر لوگوں کو صدمہ پہنچائیں۔

آپ نے بشیر بن حلملم کو بلایا  جو ایک شاعر تھے اور فرمایا: "اے بشیر! مدینہ  میں  داخل ہو جاؤ اور میرے بابا  امام حسین  علیہ السلام کی شہادت  کی خبر کا اعلان کرو۔"

بشیر روتے ہوئے مسجدِ نبوی کے پاس پہنچا اور بلند آواز میں پکارا:

 "ا ھل یثرب لا مقام لکم بھا۔۔"

اے یثرب والو! اب یہاں تمہارے ٹھہرنے کا کیا فائدہ؟ حسین قتل کر دیے گئے، میرا دل خون کے آنسو مسلسل بہا  رہے  ہیں، ان کا مقدس  جسم  مبارک کربلا کی خاک پر بے گورو کفن پڑا ہے اور ان کا سر نیزے پر بلند کر کے شہر شہر  پھرایا  گیا ہے۔

مدینہ میں داخلہ

بشیر کی آواز سن کر پورا مدینہ گلیوں میں نکل آیا۔ شہر میں کہرام مچ گیا۔ حضرت ام البنین امیر المومنین  علیہ السلام کی زوجہ اور حضرت عباس کی والدہ) اپنے پوتے کو گود میں لیے باہر آئیں۔ انہوں نے بشیر سے اپنے چار بیٹوں کی خبر نہیں پوچھی، بلکہ بار بار پوچھا: "بشیر! میرے حسین علیہ السلام   کا کیا ہوا؟" جب انہیں پتہ چلا کہ حسین علیہ السلام  شہید ہو گئے، تو انہوں نے وہیں بیٹھ کررونا اور ماتم کرنا شروع کر دیا تھا ۔

 امام سجاد علیہ السلام  کا مسجد نبوی میں  خطبہ  اور حاضری روضہ رسول ﷺ

امام زین العابدین  علیہ السلام  جب مدینہ میں داخل ہوئے، تو لوگ آپ کے گرد جمع ہو کر رونے لگے۔آپ کے ہاتھ میں ایک رومال تھا جس سے آپ اپنے آنسو صاف کرتے پر آنسو رکتے ہی نہیں  تھے۔ آپ نے ایک لکڑی کے منبر پر کھڑے ہو کر تاریخی خطبہ دیا:

"اے لوگو! اللہ نے ہمیں آزمایا۔ اسلام پر وہ مصیبت آئی جو کبھی کسی پر نہیں آئی تھی۔ ہمارا امتحان لیا گیا ،  حسین علیہ السلام  کو بے دردی سے کربلا کی تپتی ہوئی ریت میں بھوکے پیاسے کو  ذبح کیا گیا، ہمیں قیدی بنا کر شہر شہر پھرایا گیا۔ یہ وہ زخم ہے جو کبھی نہیں بھر سکتا۔"ہمارا پورا خاندان شہید ہو چکا ہے ۔ پر ہم نے صبر  کا دامن نہیں چھوڑا ہے۔  ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔  جس نے ہم کو اس عظیم  قربانی  کے  لیے چنا ہے۔  

اس کے بعد آپ روضہ رسول  ﷺ پر تشریف لے گئے اور اپنے نانا کو پورے سفر کی ایک تکلیف    کی  ہم بیتی  سنائی۔ آپ نے بتایا کہ کس طرح آپ کی آل کو بے سہارا چھوڑ دیا گیا تھا۔

 

تبصرہ کریں               (Blog Comments Section)

آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ نیچے دیے گئے سوالات پر مہربانی  کر کے  اپنی رائے کا اظہار  ضرور کریں کریں:

 

یزید نے امام حسین کو  اور اُن کے  شہداء کو "باغی" مشہور کیا تھا، لیکن امام سجاد علیہ السلام کی واپسی نے ثابت کر دیا کہ وہ حق پر تھے۔

اہل بیت کی جرات دیکھ کر مسلمانوں کے دلوں سے اموی سلطنت کا خوف نکل گیا، جس کا نتیجہ بعد میں "واقعہ حرہ" اور "قیامِ مختار" کی صورت میں نکلا۔

 امام علیہ السلام  نے اس سفر کے بعد اپنی بقیہ 34 سالہ زندگی گریہ میں گزاری۔ آپ قصاب کو جانور ذبح کرتے دیکھتے تو رو پڑتے کہ تو قصائی کو بولتے کہ "کیا تم نے اسے پانی پلایا ہے؟ میرے بابا کو تو پیاسا ذبح کیا گیا

Hamari nayi updates ke liye follow karein:

Post a Comment

0 Comments

© Seven For Eight Hash | Urdu Pakistan — All content is original. Unauthorized use is prohibited.