یونیورسٹی آف نارووال

 یونیورسٹی آف نارووال

Narowal University Education 
 

تعارف


یونیورسٹی آف نارووال پاکستان کے ضلع نارووال میں قائم ایک سرکاری یونیورسٹی ہے۔
نارووال  جو پنجاب   ایک  شہر ہے جو انڈیا اور  پاکستان کی باڈر پر واقع ہے۔ اس کا  کل رقبہ  2337 مربع  کلومیٹر ہے۔  اس کو 1991 میں ضلع کا درجہ  دیا گیا تھا۔  اس کا مقصد علاقے کے طلبہ و طالبات کو اپنے ہی شہر میں معیاری اعلیٰ تعلیم فراہم کرنا ہے تاکہ انہیں تعلیم کے لیے بڑے شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔ اس یونیورسٹی کے قیام سے نارووال اور اردگرد کے علاقوں میں تعلیم کے مواقع بڑھے ہیں۔ اس سے پہلے طلباء  کو ماسٹرز  یا بیچلرز  کی  ڈگری کے لیے  لاہور، گوجرانوالہ  یا گجرات  کا سفر کرنا پڑتا تھا۔   یونیورسٹی آف نارووال نے  اس خلاُ کو کسی حد تک پُر کیا ہے۔

قیام

یونیورسٹی آف نارووال کا آغاز پہلے ایک ذیلی کیمپس یونیورسٹی آف گجرات  کے طور پر ہوا۔ بعد میں علاقے کی تعلیمی ضرورت کو دیکھتے ہوئے اور سیاسی  قیادت  خاص طور  پر وفاقی  وزیر  احسن اقبال صاحب کی کوششوں سے    حکومتِ پنجاب نے 2018 میں اسے باقاعدہ طور پر ایک الگ اور مکمل یونیورسٹی کا درجہ دیا۔ اس کے بعد یونیورسٹی نے اپنا انتظامی نظام اور تعلیمی ڈھانچہ قائم کیا۔

کیمپس اور سہولیات

یونیورسٹی آف نارووال کا مرکزی کیمپس شہر سے کچھ فاصلے پر نارووال شکرگڑھ روڈ پر  واقع ہے۔  جہاں پُرسکون تعلیمی ماحول موجود ہے۔ یہاں طلبہ کے لیے درج ذیل سہولیات فراہم کی گئی ہیں:

وسیع  کلاس رومز

سائنسی مضامین اور   لیبارٹریز

کمپیوٹر لیبز اور انٹرنیٹ کی سہولت

لائبریری

انتظامی بلاک اور تعلیمی بلاکس

تعلیمی شعبہ جات

یونیورسٹی میں مختلف شعبہ جات میں بی ایس (چار سالہ) اور بعض مضامین میں اعلیٰ تعلیم دی جا رہی ہے، جن میں شامل ہیں:

فزکس، کیمسٹری، ریاضی اور دیگر سائنسی مضامین

کمپیوٹر سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی

اردو، انگریزی اور سماجی علوم

بزنس ایڈمنسٹریشن    

ان شعبوں کی وجہ سے طلبہ اپنی پسند کے مضمون میں مقامی سطح پر تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔

تعلیمی اور سماجی فائدے

یونیورسٹی آف نارووال نے علاقے میں مثبت تبدیلیاں پیدا کی ہیں:

طلبہ و طالبات کو گھر کے قریب تعلیم کا موقع ملا

خاص طور پر طالبات کی اعلیٰ تعلیم میں اضافہ ہوا

مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے

علاقے میں تعلیمی شعور میں بہتری

مختصر سفر

مختصر یہ کہ یونیورسٹی آف نارووال محض اینٹ اور گارے یا مٹی  کی عمارت  کا نام نہیں ہے بلکہ  یہ پاکستان اور انڈیا کی سرحد پر  لاکھوں نوجوانوں کے خوابوں کی تعبیر ہے۔ اگر انسان کو  وسائل فراہم کیے جائیں تو چھوٹے شہروں کا ٹیلنٹ کسی سے کم نہیں۔ اس یونیورسٹی نے نارووال کو ایک "تعلیمی شہر" میں تبدیل کرنے کی بنیاد رکھ دی ہے۔ کیونکہ چھوٹے شہروں کے ووٹ کی  بھی اُتنی ہی قیمت ہے جو  لاہور جیسے بڑے شہروں کے لوگوں کی ہے۔

حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے فنڈز اور فیکلٹی کی فراہمی کو یقینی بنائیں،  اور فنڈز کو بھی اچھے طریقے  سے استعمال کیا جائے ،تاکہ یہ ادارہ مستقبل میں پاکستان کی بہترین یونیورسٹیوں کی فہرست میں شامل ہو سکے۔ یونیورسٹی آف نارووال کا سفر جاری ہے، اور اس کی منزل علم کی روشنی سے پورے خطے کو منور کرنا ہے۔

ایک خامی پر نظر

یونیورسٹی کے موجودہ ٹائم ٹیبل میں ایک پیڑڈ سے دوسرے  پیرڈ میں  ڈھائی سے تین گھنٹے پر مشتمل طویل وقفہ  ہوتا ہے۔ جو کہ نہ صرف طلبا کے قیمتی وقت کا ضیاع ہے ۔ بلکہ ان کی اخلاقی تربیت اور ذاتی حفاظت کے لیے بھی ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ مقولہ مشہور ہے کہ "خالی ذہن شیطان کا گھر ہوتا ہے"، اور حقیقت بھی یہی ہے کہ جب طلبا طویل عرصے تک فارغ رہتے ہیں ۔تو ان کے غلط صحبت یا منفی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

نوجوانی  کی  عمر بہت احساس  ہوتی ہے ، جہاں جذبات اور اردگرد کا ماحول ان  پر جلد اثر انداز ہوتا ہے۔ اس طویل فارغ وقت کے دوران طلبا کی نگرانی ممکن نہیں رہتی، جس سے اخلاقی اور سماجی مسائل جنم لے سکتے ہیں، اور والدین بھی فکرمندی کا شکار رہتے ہیں۔

اگر کلاسز کے درمیان یہ غیر ضروری وقفے ختم کر دیے جائیں اور ٹائم ٹیبل کو مسلسل (Continuous) بنایا جائے تو طلبا اپنی تعلیمی سرگرمیاں مکمل کرنے کے بعد بروقت گھروں کو لوٹ سکیں گے۔ اس اقدام سے نہ صرف تعلیمی نظم و ضبط بہتر ہوگا بلکہ طلبا کے کردار سازی اور والدین کے اطمینان میں بھی اضافہ ہوگا۔


لہٰذا یونیورسٹی انتظامیہ اور بالخصوص وائس چانسلر صاحب سے مؤدبانہ مگر پرزور اپیل ہے کہ طلبا کے روشن مستقبل، اخلاقی تحفظ اور تعلیمی بہتری کے پیشِ نظر ٹائم ٹیبل میں موجود طویل وقفوں کا خاتمہ کیا جائے اور ایک مربوط و مسلسل نظام الاوقات ترتیب دیا جائے۔

نوٹ: نارووال  کی یونیورسٹی  آف نارووال  کا یہ آفیشیل  سائٹ  ایڈریس ہے آپ اس پر یونیورسٹی کی تمام معلومات  حاصل کر سکتے ہیںَ

تبصرہ کریں               (Blog Comments Section)

آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ نیچے دیے گئے سوالات پر مہربانی  کر کے  اپنی رائے کا اظہار  ضرور کریں کریں:

 

·         کیا آپ کو لگتا ہے کہ   یونیورسٹی    کی انتظامیہ  کو موجودہ ٹائم ٹیبل نظر ثانی کرنی چاہیے  اور اس خامی کو  ختم کرنا چاہیے؟

·         کیا   آپ کو لگتا  نہیں ہے کہ نوجوانی  کی  عمر بہت احساس  ہوتی ہے ، جہاں جذبات اور اردگرد کا ماحول ان  پر جلد اثر انداز ہوتا ہے؟


Hamari nayi updates ke liye follow karein:

Post a Comment

0 Comments

© Seven For Eight Hash | Urdu Pakistan — All content is original. Unauthorized use is prohibited.