تعلیم اور پاکستان
| www.urdupakista.online |
اسکول 12 جنوری سے
کھولنے کے حق میں آواز بلند کریں۔ اور کہ ایک کھیل ہے جو پنجاب حکومت
بچوں کے مستقبل سے کھیل رہی
ہے۔ کیونکہ سکول کے کلاس روم پاکستان
کے مری شہر میں ہوتے ہیں۔ اور گھر
جو ہیں وہ پنجاب میں ہیں۔ گھر میں سرد ی نہیں ہوتی ہے۔ سکول میں سردی ہوتی
ہے۔ بچے تو بچے ہی ہوتے ہیں۔ وہ چھٹیوں کا سن کر خوشیوں کے شادیانے بجاتے ہیں کہ
اب تو "موجاں ای موجاں" یہ عمر ہی ایسی ہوتی ہے... خوابوں کی دنیا میں
رہنا...بظاہر آرام و سکون اچھا لگتا ہے.... خوابوں کی دنیا میں اڑے اڑے پھرنا... یہ
ک محنت اور کھجل خواری کئے بغیر ہی دنیا جہان کی نعمتیں انکی جھولی میں آگریں....لیکن
یہ وقتی آرام و سکون بعد میں ساری زندگی کے لئے انکے لئے اک حقیقی ڈراؤنا خواب بن
کر سامنے آکھڑا ہوتا ہے.... کوئی بھی پالیسی بنانا اور اس پہ عمل کروانا حکومتوں کا کام ہوتا ہے۔
اپنے تعلیمی ادارے
بچے کبھی بھی کسی بھی حالت میں اپنے تعلیمی ادارے سے غیر حاضر نہ بھی رہیں ۔ تو وہ پورے سال میں بمشکل 140 دن اپنے تعلیمی ادارے میں کلاسز لے سکتے ہيں.وہ کبھی اگر بیمار بھی نہ پڑیں۔ اور ہمارے تعلیمی اداروں میں دل کھول کر چھٹیاں،گرمی کی،سردی کی،سموگ کی،ہرہفتہ والے دن چھٹی، ہر اتوار چھٹی،تہواروں کے نام پر درجنوں چھٹیاں، اگر طلباء و طالبات اپنی فیملی کی کسی بھی غمی، خوشی،میں شریک نہ ہونا۔
سردی اور سموگ کی چھٹیاں
اب سوال یہ بنتا ہے کہ کیا پنجاب کے تعلیمی اداروں میں سردی/
سموگ کی چھٹیاں دینے سے لاہور یا دوسرے
شہروں میں سموگ یا فضائی آلودگی میں کوئی کمی آئی، باقی رہی سردی ؟؟ جی کیونکہ بچے سکول میں آ کر سموگ چھوڑتے ہیںَ۔ اور اگر سکول وہ آجائیں تو سردی
کلاس میں تیز ہو جاتی ہے۔ سردی کی شدت اگر مذید 1 ماہ تک برقرار رہتی ہے تو
کیا تعلیم سے یہ کھلواڑ جاری رہے گا ۔
دسمبر/ جنوری/ فروری میں تو ہر سال شدید سردی ہوتی ہے....
ہم بچپن سے ایسے موسموں سے اچھی طرح سے آشنا ہیں.... لیکن چھٹیوں کی ایسی وبا پہلی
مرتبہ ہی پھوٹی ہے.
حکومتِ پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق تقریباً 3 کروڑ بچے
غربت اور حالات کی وجہ سے اسکول نہیں جاتے.... ماضی کی ہر حکومت نے ملک میں تعلیمی
ایمرجنسی نافذ کرنے کی باتیں کیں..... پاکستان کو تعلیمی میدان اور آئی ٹی کے شعبے
میں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے دعوے کئے اور کرتے جا رہے ہیں....
لگتا ہے کہ ""تعلیمی ایمرجنسی"" کے
نفاذ کی بجائے پورے تعلیمی نظام کو ہی "ایمرجنسی وارڈ" میں پہنچا دیا گیا
ہے.
بدقسمتی سے ہمارے ملک میں بے جا چھٹیوں کے نام پر تمام تعلیمی
اداروں میں "کرفیو" نافذ کر دیا جاتا ہے.... طالبعلم تو کیا بچوں کے
والدین بھی کسی ضروری کام کے لئے کسی بھی تعلیمی ادارے میں نہیں آسکتے کیوں کہ
وہاں تو زور جبر سے تالہ بندی کروا دی جاتی ہے. * حالانکہ دنیا بھر میں تمام تعلیمی
اداروں کے دفاتر مروجہ چھٹیوں میں بھی کھلے رہتے ہیں.... اسٹاف آتا ہے... ایڈمن
آفس کھلے رہتے ہیں... تمام تعلیمی شعبوں کے HODs اور تدریسی
عملے سے آپ وقتا فوقتا مل سکتے ہيں....لیکن یہاں ہمارے ہاں گنگا الٹی بہتی ہے.
اب تم والدین کو نجی اسکولوں کے معزز پرنسپلز سے
مل کر فوری اور مؤثر اپیل کی جاتی ہے کہ وہ سوشل میڈیا
کے ذریعے اپنی آواز بلند کریں اور اس بات پر زور دیں کہ اسکول 12 جنوری سے کھولے
جائیں۔ یہ بات باعثِ تشویش ہے کہ سرکاری اساتذہ، وزیرِ تعلیم پر دباؤ ڈال رہے ہیں
کہ سردیوں کی تعطیلات 19 جنوری تک بڑھائی جائیں، جو کہ نجی تعلیمی اداروں، طلبہ
اور والدین کے مفاد کے خلاف ہے۔ نجی اسکول پہلے ہی شدید مالی اور تعلیمی مسائل کا
شکار ہیں۔ مزید تعطیلات سے تعلیمی نقصان ناقابلِ تلافی ہو سکتا ہے۔
یہ وقت خاموشی کا نہیں، اتحاد اور عملی اقدام کا ہے۔ آئیں، اپنے طلبہ اور اداروں کے مستقبل کے لیے
آج ہی آواز بلند کریں -
تبصرہ
کریں (Blog Comments
Section)
آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ نیچے دیے گئے سوالات پر مہربانی کر
کے اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں کریں:
0 Comments