Traditional vs non traditional Education comparison


ماسٹر گرائمر اسکول بڈھاڈھولہ ، نارووال

 ایک مثالی تعلیمی  باشعوادارہ

 

اسکول کا نصب العین (Motto): "علم، عمل اور کردار ایک روشن مستقبل  کی بنیاد اور  تعلیم ہر ایک لیے ہے "

Traditional vs non traditional Education comparison
www.urdupakista.online

غیر روایتی  طریقوں کے فائدے اور اہمیت

 روایتی  طریقے  سے اُستاد صاحب کلاس میں آتے ہیںَ۔ بلیک بورڈ پر لکھتے ہیں۔ سبق کتاب سے پڑھتے ہیں۔  اور بچے خاموشی سے سنتے ہیں۔  اور غیر روایتی طریقے اس سے بالکل جدُا ہوتے ہیں۔  اس طریقے میں بچے خود سیکھتے ہیں۔ اس میں بچے کھیل کود میں سیکھتے ہیں۔ اور آپس میں میں مل جل کر سیکھتے ہیں۔  اس میں استاد ایک سہولت  کار کی طرح ماسٹر گرائمر سکول میں   راہنمائی کرتا ہے۔  سکول صرف کتابیں پڑھنے کی جگہ نہیں، بلکہ زندگی سنوارنے کا نام ہے۔ آج ہم بات کریں گے کہ تعلیم کے جدید طریقے ہماری زندگی کیسے بدلتے ہیں۔ ہمارا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں، بلکہ ایک بہتر انسان بننا ہے۔

طلباء کی دلچسپی اور حوصلہ افزائی میں اضافہ

اس سے بچوں کے اندر  سیکھنے کی مہارتوں میں بہت ہی اضافہ ہو جاتا ہے۔  آج کے دور کے بچوں کے لیے   یہ سب سیکھنا بہت ہی ضروری ہے۔  خاص طور پر اُن بچوں کے لیے  جو مشکل حالات میں  زندگی گزار رہے ہیںَ۔ یہ مہارتیں  بچوں  کو تیزی سے بدلتی  ہوئی دُنیا  کا مقابلہ  کرنے، اور اس میں کامیاب ہونے  اور اچھے شہری بننے کے لیے بہت ہی ضروری ہیں۔ ماسٹر گرائمر سکول بڈھاڈھولہ  اپنے تدریسی  حکمت  بہت  سی مہارتوں کو شامل کرتا ہے۔ صرف فنڈز کی کمی کی وجہ سے  بہت سے  منصوبے رک جاتے ہیں۔  ا  س کے لیے بہت سی این، جی ،او  کو درخواست کی پر  ناکامی ہوئی۔  غیر روایتی طریقے بچوں کو نئے آئیڈیاز لانے اور کچھ نیا تخلیق کرنے کا موقع دیتے ہیں

                                                                فعال سیکھنا (Active Learning)

اس طریقے میں طلباء کو صرف سننے کے بجائے مختلف سرگرمیوں، باہمی تعاون اور مسائل حل کرنے کے عمل میں شامل کیا جاتا ہے، جس سے ان کی دلچسپی بڑھتی     ہے۔ اور  بچوں میں برداشت زیادہ ہوتی ہے۔ 

 سبق کے ساتھ مناسبت (Relevancy)

جب تعلیم کو حقیقی دنیا کی مثالوں سے جوڑا جاتا ہے، تو طلباء کے لیے سیکھنے کا مواد زیادہ دلچسپ ہو جاتا ہے۔ ان طریقوں سے رٹا نہیں بلکہ گہری سمجھ پیدا ہوتی ہے اور سبق دیر تک یاد رہتا ہے۔ 

                                                               تنوع (Diversity)

تدریس میں مختلف طریقوں کا استعمال کلاس روم کے ماحول کو متحرک رکھتا ہے اور طلباء کو کام میں شامل ہونے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔  اگر بچوں کو کہانیوں یا ڈراموں کے ذریعے پڑھایا جائے، تو وہ اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوتے اور خوشی سے سیکھتے ہیں۔ عملی طور پر سیکھی ہوئی باتیں طلباء کے ذہن میں دیر تک محفوظ رہتی ہیں۔  اس سے دلچسپی میں اضافہ ہوتا ہے ،  جب پڑھائی میں کھیل اور کہانیاں شامل ہوں تو طلباء بور نہیں ہوتے اور زیادہ جوش و خروش سے حصہ لیتے ہیں۔

 

                سرگرمیاں کرنا

جب بچے خود پروجیکٹس بناتے ہیں یا کھیل کھیلتے ہیں، تو وہ سبق کو زیادہ بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ بچوں کو جب مشکل کام دیے جاتے ہیں تو ان کا دماغ تیز ہوتا ہے اور وہ خود حل نکالنا سیکھتے ہیں۔ ٹیم ورک کی وجہ سے مل جل کر کام کرنے سے بچے ایک دوسرے کی بات سننا اور ساتھ چلنا سیکھتے ہیں۔ یہ سرگرمیاں بچوں کو  حقیقی زندگی سے جوڑتی ہیں ۔ اگر حساب کو دکان سے سودا خریدنے جیسی مثالوں سے سمجھایا جائے تو سبق زیادہ سمجھ آتا ہے۔

                                        سبق کو زندگی سے جوڑنا

روزمرہ کی زندگی کی مثالیں (جیسے حساب سکھانے کے لیے دکان سے سودا خریدنا) سبق کو زیادہ قابل فہم بناتی ہیں۔ اس میں طلباء صرف لیکچر نہیں سنتے بلکہ سرگرمیوں اور باہمی تعاون سے سیکھتے ہیں۔

خود آموزی (Self Learning)

اس سے طلباء میں خود سے سیکھنے کی عادت پیدا ہوتی ہے جو زندگی بھر کام آتی ہے۔ اس سے اُن کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔  وہ اپنی عملی زندگی میں بہت افعال ہوتے ہیں۔

بدلتی  ہو ئی دُنیا   کے مطابق

دُنیا مسلسل بدل رہی ہے ۔  اور جدید  تدریسی  طریقے  طلباء  کو مستقبل  کے چیلنجوں اور  مواقع  کے لیے تیار  کرنے میں مدد  کرتے ہیں۔  اور علم فراہم  کرتے ہیں۔

  بچوں کی سوچ اور صلاحیتیں بہتر بنانا

ü      مسائل حل کرنے کی صلاحیت: مشکل اسائنمنٹس دینے سے بچوں کا دماغ تیز ہوتا ہے اور وہ خود سوچ کر حل نکالنا سیکھتے ہیں۔

ü      نئے خیال پیدا کرنا (تخلیقی صلاحیت): غیر روایتی طریقے بچوں کو آزادانہ سوچنے اور نئے آئیڈیاز لانے کا موقع دیتے ہیں۔

ü      بات چیت اور مل کر کام کرنا: گروپس میں کام کرنے سے طلباء ایک دوسرے کی بات سننا اور مل جل کر کام کرنا سیکھتے ہیں۔

طلباء کو مستقبل کے لیے تیار کرنا اور 21ویں صدی کی مہارتیں

ü      یہ طریقے طلباء کو آج کی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا اور مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرتے ہیں۔

ü      خود آموزی (Self Learning): طلباء میں خود سے سیکھنے کی عادت پیدا ہوتی ہے جو زندگی بھر ان کے کام آتی ہے۔

ü      21ویں صدی کی مہارتیں والے طریقے بچوں کو جدید دُنیا میں لے جاتے ہیں۔  یہ طریقے طلباء کو آج کی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے لیے تیار کرتے ہیں۔


تبصرہ کریں               (Blog Comments Section)

آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ نیچے دیے گئے سوالات پر مہربانی  کر کے  اپنی رائے کا اظہار  ضرور کریں کریں:
 
ü     سکول کیا ہمارے معاشرے کو اکیسویں  صدی کی مہارتوں کو اپنانا چاہیے ؟
ü   ے ہمیں سیکھنے کا  ماحول کیسا  تخلیق کرنا چاہیے۔
ü     سکول اور والدین  کے درمیان  رابطے  کو مزید  بہتر  بنا کر  غیر روایتی  طریقوں  کا بتانا چاہیے

   
۔

ü     بچوں  کو غیر روایتی  طریقوں   کے فائدے کیا ہونے چاہیے۔ 

 

Hamari nayi updates ke liye follow karein:

Post a Comment

1 Comments

© Seven For Eight Hash | Urdu Pakistan — All content is original. Unauthorized use is prohibited.