ماسٹر گرائمر سکول بڈھاڈھولہ میں سالانہ تقسیم انعامات کی پر وقار تقریب

ماسٹر گرائمر سکول بڈھاڈھولہ میں سالانہ تقسیم انعامات کی پر وقار تقریب

Annual Prize Distribution
Annual Prize  Distribution News

علم ماسٹر گرامر سکول کی سالانہ تقریبِ تقسیمِ انعامات

           تعلیم صرف ایک  کتاب کو پڑھنے  کا نام نہیں، بلکہ یہ شخصیت سازی، خود اعتمادی کے اندر  کی صلاحیتوں کو  چمکانے کا ایک مسلسل عمل ہے۔ اسی بات  کو نظر  میں رکھتے ہوئے، نارووال کے  ایک اچھا تعلیمی ادارے ماسٹر گرامر سکول نے اپنی سالانہ تقریبِ تقسیمِ انعامات کا انعقاد مقامی "القائم میرج ہال" میں کیا۔ یہ تقریب نہ صرف بچوں کی تعلیمی کامیابیوں کا جشن تھی بلکہ ان کی غیر نصابی سرگرمیوں میں مہارت کا ایک شاندار مظاہر ہ بھی تھا۔

 تقریب کا آغاز

 تقریب کا آغاز   بھی ہر  نیک کام  کی طرح  اللہ  تعالیٰ کے بابرکت نام سے  شروع کیا  گیا۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا ، جس نے ہال میں موجود تمام حاضرین کے دلوں کو ایمان  کے نور سے روش کر دیا۔ اس کے بعد بارگاہِ رسالت حضرت محمد ﷺ میں ہدیہ نعت پیش کیا گیا، جس نے ہال کے ماحول کو روحانیت سے بھر دیا۔

  ننھے ستاروں کی شاندار  پرفارمنس اور مہمان کو  خوشامد

 ​          سکول کے  سب ننھے منے طلبہ نے رنگ برنگے لباس پہن کر  "ویلکم سونگ" پر پرفارم  پیش کی ،  تو پورا  میرج ہال تالیوں سے گونج اٹھا تھا۔ والدین کے چہروں پر  خوشی اور فخر کی جھلک  نمایا ں دیکھی جا سکتی تھی۔  بچوں نے  بڑی معصومیت اور مہارت سے مہمانوں کو  ویلکم  کہا، اس نے تقریب کا معیار  شروع سے نمایاں کر دیا تھا۔

         ٹیبلوز اور ملی نغمے

تقریب کا سب سے دلچسپ  اور اہم پہلووہ ٹیبلوز اور فنی خاکے تھے ،جنہیں طلبہ نے بڑی محنت سے تیار  کرکےاپنے فن  کا مظاہرہ کیا تھا۔ بچوں نےاپنے وطن  کے پیار  کے جذبے  میں  مست ہوکر ملی نغمے پیش کیے، جس سے والدین اور  شرکاء کے اندر وطن عزیز کے لیے محبت کی لہر دوڑ گئی۔ مختلف معاشرتی  موضوع اور تعلیمی پیغامات پر مشتمل ٹیبلوز نے والدین اور حاضرین کو سوچنے پر مجبور کر دیا،   جس میں مزاحیہ خاکوں نے سب کے چہروں پر  خوشیوں کی مسکراہٹیں  سے چہروں کو  چمک دیا ۔  طلبہ نے اردو اور انگریزی تقاریر کے ذریعے اپنی خطابت  سے اپنے جوہر دکھاے۔ لوگوں کو  پیغام دیا کہ ہم مستقبل کے بہترین لیڈر  اور ملک  کے وارث بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

معزز مہمانانِ گرامی

تقریب میں پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن نارووال  کے اعلیٰ عہدیداران اور معززین علاقہ نے خصوصی شرکت کی۔ جس میں  صدر PSA نارووال، جناب عظمت علی گجر نے خطاب کرتے ہوئے کہا:

"ماسٹر گرامر سکول بڈھاڈھولہ  کے بچوں کا سٹیج پر آ کر اتنے اعتماد سے بات کرنا اوراپنی پرفارمس کا مظاہرہ کرنا، اس بات کی  امیدہے کہ یہاں صرف پڑھایا نہیں جاتا بلکہ بچوں کی معاشرتی  تربیت  بھی کی جاتی ہے۔"

 جنرل سیکرٹری ڈاکٹر سعید احمد  پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن نارووال  اور  جناب ظفر اقبال زونل انچارج آف  سنو مین پبلشرز  سیالکوٹ نے اساتذہ کی  سخت محنت  کی بہت تعریف کی  اور کہا  کہ نجی تعلیمی ادارے ملک میں شرحِ خواندگی بڑھانے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یو سی ناظم ندوکے  ڈاکٹر نعیم سرور  نے بھی سکول انتظامیہ کو کامیاب سالانہ تقریبِ تقسیمِ انعامات پروگرام پر مبارکباد پیش کی۔اور کہا کہ یہ سکول دن بدن اپنی محنت  سے ترقی در ترقی کرتا جا رہا ہے۔

انعامات کی تقسیم

انعامات تقسیمِ تقریب کا سب سے جذباتی اور اہم لمحہ ہوتا ہے  جب پوزیشن ہولڈرز طلبہ کو سٹیج پر بلایا گیا۔ تعلیمی میدان میں  اول، دوم اور سوم آنے والے طلبہ کو شیلڈز اور میڈلز دیے گئے۔ اس موقعہ پر  بہترین کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن نارووال  کے عہدیداران نے اپنی جیب سے نقد انعامات دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔  ایک اچھا استاد ہی  معاشرے کوبناتا ہے ۔ اس تقریب میں ان اساتذہ کو بھی شیلڈز دی گئیں ،جنہوں نے سال بھر  بچوں کی کامیابی کے لیے خون پسینہ ایک کیا۔

            انتظامیہ کی شکریہ

 پرنسپل  ماسٹر گرامر سکول بڈھاڈھولہ ، جناب افتخار اللہ بھٹی صاحب کی شخصیت  اب کسی تعارف کی محتاج نہیں رہی ۔ ان کی سرپرستی میں سکول نے تھوڑے  ہی عرصے میں بڑا نام  کرلیا ہے۔ تقریب کے اختتام پر انہوں نے تمام مہمانوں، والدین اور خاص طور پر ایم ڈی القائم میرج ہال جناب  قمر عباس صاحب   کا شکریہ ادا کیا جن کے تعاون سے یہ پروگرام ممکن ہوا۔ والدین نے افتخار اللہ بھٹی صاحب اور ان کی ٹیم کو اس کامیاب تقریب پر  بہت سی  مبارک بادیں دیں اور  انہوں امید ظاہر کی کہ  انشاءاللہ سکول آنے والے  وقت میں بھی اسی طرح علم کی شمع روشن رکھے گا۔

آپ  اس  سالانہ تقسیم انعامات کی تقریب  کی کچھ جھلکیاں  کی تفصیل  Description  میں یوٹیوب چینل  پر دیکھ سکتے ہیں۔

تبصرہ کریں               (Blog Comments Section)

آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ نیچے دیے گئے سوالات پر مہربانی  کر کے  اپنی رائے کا اظہار  ضرور کریں کریں:

 
کیا آپ کے خیال میں ایسی ہم نصابی سرگرمیاں بچوں کی شخصیت  میں نکھار پیدا کرتی ہیں۔
کیا آپ کے خیال میں ایسے پروگرام ہر سکول میں ہونے چاہیے۔
کیا آپ کے خیال میں والدین  کو سکول انتطامیہ کی ایسے پروگر ام  میں حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔

Hamari nayi updates ke liye follow karein:

Post a Comment

0 Comments

© Seven For Eight Hash | Urdu Pakistan — All content is original. Unauthorized use is prohibited.