دریائے روای کی پاکستان میں

 



Indus water treaty
دریائے روای

دریائے روای کی پاکستان میں

تعارف

دریائے راوی پاک و ہند کے اہم ترین دریاؤں میں سے ایک بہت ہی اہم دریا  ہے۔ یہ پنجاب کے ان پانچ دریاؤں میں شامل ہے،جس  کی وجہ سے اس خطے کو پنجاب (پانچ پانیوں کی سر زمین) کہا جاتا ہے۔ قدیم ویدک دور میں اسے 'پرشنی' اور سنسکرت میں 'ایراوتی' کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ یہ دریا  نہ صرف  پانی پینے کا مہیا کرتا ہے بلکہ زراعت  کو بھی پانی مہیا کرتا ہے۔ بلکہ اس کے کنارے دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں اور آ باد ہے  جیسے کہ  لاہور ہے ۔ پاکستان کا دل کی حیثیت رکھتا ہے اس دریا کے مشرقی کنارے پر آباد ہے۔ مغل بادشاہوں نے راوی کے کنارے مقبرہ جہانگیر اور دیگر عظیم الشان عمارتیں تعمیر کیں۔

جغرافیہ

دریائے راوی کا منبع بھارت کی ریاست ہماچل پردیش کے ضلع کانگڑا میں ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے 'بڑا بھنگال' میں واقع ہے۔ یہ سمندر کی سطح سے  بہت ہی بلند ہے ۔ اس کی لمبائی تقریباً 720 کلومیٹر

سندھ طاس

1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے عالمی پانی  کے  معاہدے  میں تین مشرقی دریاؤں  جن میں راوی، ستلج اور بیاس کے پانی پر مکمل طور پر بھارت کا حق ہو گا ۔ اس معاہدے کے نتیجے میں راوی کا پانی پاکستان میں کافی کم ہو گیا ہے، کیونکہ بھارت نے اس پر مختلف ڈیم (جیسے رنجیت ساگر ڈیم) بنا لیے ہیں۔ دریائے راوی پربنائے جانے والا ”شاہ پورکانڈی“ ڈیم کی تعمیر سے بھارت کی جانب سے آنے والا پانچ فیصد پانی بھی بالکل بند ہوچکا ہے۔

زراعت اور معیشت

راوی کا پانی  پاکستان  کے پنجاب کی  زمینوں کو سیراب  کرتا  ہے۔ پاکستان میں اس دریا کے  پانی کو روکنے کی وجہ سے زیرِ زمین پانی کی سطح گر رہی ہے، تاہم برسات کے موسم میں یہ اب بھی سرسبز و شادابی کا باعث بنتا ہے۔ بلوکی ہیڈورکس کے مقام پر اس سے اہم نہریں نکالی گئی ہیں۔

نتیجہ

اصل میں ہم ایک جذبات قوم ہیں مگر حقیقت میں ہم مفاد پرست ہیں ، پاکستانی قوم کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے۔ ہم اپنے حکمران سے امید رکھے ہوئے ہیں۔ وہ خود چور ہیں۔بجلی کا بل دیکھو، کتنے ٹیکس ہیں۔دریائے راوی محض پانی کی ایک لہر نہیں بلکہ یہ پنجاب کی ثقافت، گیتوں اور تاریخ کا حصہ ہے۔ اس کی بحالی کے لیے 'راوی ریور فرنٹ ڈویلپمنٹ پراجیکٹ' جیسے منصوبے زیرِ غور ہیں تاکہ اس قدیم دریا کو دوبارہ زندگی دی جا سکے۔

راوی اور پاکستان

لاہور کا ذکر راوی کے بغیر آدھا ہے۔ راوی جس کے کنارے اس شہر کو بسایا گیا تھا آج روای خود دم توڑ رہا ہے -آج مگرمچھ کے آنسو بہانے والے اس کی تباہی کے ذمہ دار ہیں بھارت میں راوی زندہ ہے ہم نے اسے مار دیا ۔پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم کے ایک سال بعد ہی پانی پر جھگڑا شروع ہوگیا تھا جب کشمیر پر قبضے کے لیے حملہ کیا گیا تو جواب میں بھارت نے دریاں کا پانی روک دیا۔ اس جھگڑے کی صورت میں سندھ طاس معاہدہ طے پایا۔ سندھ طاس معاہدے میں چھ دریاں سندھ‘چناب‘ستلج‘بیاس‘جہلم اور راوی کوشامل کیا گیا معاہدےسے تین دریا راوی‘ بیاس اور ستلج بھارت اور سندھ‘چناب اور جہلم پاکستان کے حصے میں آئے سندھ طاس معاہدے میں شامل۔بھارت راوی میں پانچ فیصد اضافی پانی بھی دیتا رہا جو دوملین ایکٹرفٹ بنتا ہے جبکہ سیلاب کی صورت میں یہ کئی گنا زیادہ ہوجاتا تھا 2019میں ”پلوامہ حملوں“کے بعد وزیراعظم نریندرمودی کا بیان سامنے آیا کہ ”خون اور پانی ساتھ ساتھ نہیں بہہ سکتے“ حقیقت میں یہ بھارت کی نئی واٹرپالیسی کا اعلان تھا1995میں بھارتی وزیراعظم نرسیما را نے پھٹان کوٹ میں دریائے راوی پر ”شاہ پور کانڈی “ ڈیم کی بنیاد رکھی۔گنگاجمنا کی طرح ہند دھرم میں راوی کا شمار بھی مقدس دریاں میں رہا ہے ہند کی مقدس کتاب” ویدا“ میں بہت سارے مقامات پر ”شنی اورایراوتی“ کے نام سے راوی کا ذکر ملتا ہے۔ پاکستان کو ولن بنا یا کس نے ، پاکستان کی افسر شاہی اور حکمران اشرافیہ نے یہ سب کچھ کیا ہے ۔ یس سب کچھ ہماری حکمران اشرافیہ اور افسرشاہی کی جہالت کی وجہ سے پاکستان ہر سال29ارب ڈالر مالیت کا پانی سمندر میں ڈالتا ہے‘دنیا میں بارش کاپانی محفوظ کرنے کے لیے ذحائر بنائے جاتے ہیں، ہمارے ہاں سالانہ145ملین ایکٹرفٹ پانی بارشوں سے حاصل ہوتا ہے مگر ہم اس کا صرف دس فیصد یعنی 14ملین ایکٹرفٹ ہی استعمال کرپاتے ہیں اسی طرح ہم عام استعمال میں ہم30ملین ایکٹرفٹ پانی ضائع کرتے ہیں، بارشوں کے پانی کے ذخائرسے ہم کتنے فوائد حاصل کرسکتے تھے؟ یہ کہانی پھر سہی جاتے جاتے ایک وارننگ کا ذکر جو کئی معتبر اداروں نے دی ہے کہ لاہور سمیت پاکستان کے بڑے حصے کو اتنا خطرہ ایٹمی جنگ سے نہیں ،جتنا ماحولیاتی آلودگی سے خطرہ ہے۔

 

تبصرہ کریں               (Blog Comments Section)

آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ نیچے دیے گئے سوالات پر مہربانی  کر کے  اپنی رائے کا اظہار  ضرور کریں کریں:

 

ü      کیا راوی پر پانی  کا حق صرف بھارت کا ہی کیوں ہے۔ اس میں 40 فیصد پانی  پاکستان میں آنا چاہیے  تھا ،
ü      کیا ہر معاہدہ ہی  انسانیات  کی بقا ہے۔ کیا آبی جانوروں کی کوئی  قدر و قیمت نہیں ہے۔
ü      کیا  حکومت کو  لاہور شہر کے پانی کو دریا میں  ڈالنا چاہیے
ü      حکومت  کو اس میں کیا کردار ادا کرنا چاہے۔۔
 


Hamari nayi updates ke liye follow karein:

Post a Comment

0 Comments

© Seven For Eight Hash | Urdu Pakistan — All content is original. Unauthorized use is prohibited.