Romantic Urdu Novel Epsiode 3 اپنا درد تو سب کو درد لگتا ہے، بیگانہ ڈرامہ

اپنا درد تو سب کو درد لگتا ہے، بیگانہ ڈرامہ


Romantic Urdu Novel
Romantic and breaking heart 
رُخ بہاء نے بولا کہ اپنا درد تو سب کو درد لگتا ہے،" بیگانہ ڈرامہ" ، عمی ، رُخ بہاء کے پیار میں اِتنا درد لے گیا کہ اُس کودرد کی گہرائی کا پتہ ہی نہ چلا کہ ، درد کیا ہوتا ہے۔ عمی کا درد،اصل میں اُسکے محبوب کاہی دیا ہواہے۔ مگر رُخ بہاء، محبوب ہے اور محبوب درد دیتا ہے۔ اور عمی، محب ہے ، محب کا کام درد سہنا ہوتا ہے۔


محبوب کا دیا ہوا زخم اِتنا گہرا ہےکہ اُس کے درد کی تکلیف اُس کی برداشت سے باہرہے، وہ نہ کسی کواپنا زخم دکھااورنہ بتا سکتاہے۔ اب اُس کو سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ زخم کھلا رکھنے سے ٹھیک ہو گا یا پٹی کرنے سے۔ اُس کا دل نہیں چاہتا ہے کہ کوئی اس زخم پر مرہم رکھے، کیونکہ جو لطف اور مزا درد میں وہ محسوس کرتا ہے، وہ زخم پر مرہم اس لیے نہیں رکھتا ہے کیونکہ اُس کا محبوب اُس کو تکلیف میں دیکھ کر ہنستا ہے۔ محبوب کی مسکراہٹ اپنے درد سے زیادہ پیاری ہے۔ مگر محبوب، عاشق کے دل کی تکلیف دیکھ کر، بھی اُس کو، ڈرامہ کہتا ہے۔

جس سے وہ پیار اور عشق کرتا ہے۔ وہ اُس کے درد کو ڈرامہ ہی سمجھتا رہا ۔ کیونکہ اُس کو پیارکے درد کا پتہ نہیں ہوتا۔ اُس کے لیے دل ایک کھلونے کی مانند ہے، جب چاہیے کسی کو دے دیا، جب مرضی اُسکو رولاکر، واپس لے لیا، اُس کے لیے دل لگانا کسی ڈرامہ ہی کی مانند ہے۔ شاید وہ سمجھتا ہےکہ ہر انسان کسی کو دھوکا دیتا ہے۔ اُس کے دل میں کسی کی وفا کی قدر نہیں ہوتی ہے۔

میں فقرِان ، فقرِان ، فقرِان تیرے پیار دی                          جو گیا وے جوگن ہو گئی، ہو گئی یار دی

چھُوٹا لگے ِوےجگ مینوں، چھُوٹا آسمان وے                         تیرے قدماں چاں ، میرا وسدا جہاں وے

ہوئی میں پاگل ، دیوانی، میرے دل دا توں جانی                    سامنے بٹھا کے ساری عمر میں تینوں تکاں وے

بس میں تینوں ویکھی جاواں ، نہ میں نظرں ہٹاواں                 بُھکی ، پیاسی تیرے پیار دی ، ہاں یار ا وے

میں فقران ، فقران، فقران تیرے پیار دی                             جوگیا وے جوگن ہو گئی، ہو گئی یار دی

 پیر وارث شاہ صاحب ؒنے اپنی محبوبہ بھا گ بھری کے لیے  ایک پوری ہیر کی کتاب   لکھ دی تھی ،  ۔ بابا بلھے شاہؒ  اپنے عشق میں یار کو ناچ کر مناتا ہے۔ اور ہم نے  بھی اپنے  یار کی پیار بھری یادیں اس افسانہ میں قید کرنے کی کوشش کی ہے، ہماری دُعا ہےکہ کبھی وہ، اس کو  پڑھے ۔تو  اُسے یقین ہوجائے  کہ کوئی کسی سے کتنی محبت کرتا ہے۔ جو بے لوث اور بغیر کسی کے مطلب کے ہے۔ اس افسانہ کا ایک ایک لفظ عمی کے دل کی آواز ہے، جس میں اُس کے محبوب کا دیاہوا،  درد اور بے رخی ہے۔ یہ حقیقت میں افسانہ نہیں ہےبلکہ عمی نے اپنا دل ،اس میں رکھ دیا ہے۔ 

 میرا پختہ یقین ہے دل ہمیشہ  پیارسے جیتا جاتا ہے ، نہ کے تیر یا تلوار سے۔ صرف اور صرف قربانی سے۔اگر میں اپنی دُنیا کی ہر چیز اور اپنی جان بھی دے کر اُس کا دل جیت جاؤں تو میرے لیے یہ دُنیا کی سب سے بڑی چیز ہوگی۔   مگر قصور ہماری آنکھوں کا ہے، درد میں دل ، ہمار ا روتا ہے، سزا ہمارے آنسوؤں کو ملی۔ جو ہم سے جدا ہو گئے۔مگر مجھے یقین ہے کہ دُنیا میں سب سے بڑا رشتہ ،جو ہوتا ہے ،دہ ہے دل کا رشتہ ، جس نے دل میں کسی کو رکھ لیا وہ جگہ اُس کے لیے امن ، سلامتی اور سب سے زیادہ سکون کی جگہ ہے۔مگر اُس محبوب  کا دل پتھر ہے وہ کبھی نہیں روتا۔ مگرہمارا دل پاگل جو اُس کے پیار اور یاد میں خون کے آنسو روتا ہے۔  مگر ہمارا دل رو رو کے کہتا ہے۔ ہم کو اتنا  رولاؤ، ہم کو اتنی تکلیف  دو، کہ ہماری جان آسانی سے نکل جائے۔  

  یار میں تو یاری لاگے توڑ نبھاتاہوں۔ میں کسی اور دُنیاکا ہوں، جس جگہ ہم  دل لگا لیتے ہیں۔ تو پکادل لگاتے ہیں۔ میں ایک دیوانہ ہوں، ہمارے یار میں بھی بہت  دیوانگی ہے۔ میری فطرت میں دغا اور دھوکا دینا شامل نہیں ہے۔ یار کوئی میری جان کو بتا دے کہ میں فصلی بٹیرا نہیں ہوں۔ مجھ کو تو اپنے محبوب کا مان  رکھنا اور اپنی جان دے کر، اُسکا مان زیادہ سے زیادہ بڑھانا ہے۔   

تبصرہ کریں               (Blog Comments Section)

آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ نیچے دیے گئے سوالات پر مہربانی  کر کے  اپنی رائے کا اظہار  ضرور کریں کریں:

 

·         کیا آپ کو لگتا ہے  کہ  اس ناول میں درد  کی شدت  بہت زیادہ ہے ، کیا دونوں کو ملنا چاہیے؟

·         کیا    انسان کو محبت میں اس قدر  شامل   پاگل ہونا چاہیے۔؟

·         کیا   کوئی اس دور میں بھی کسی سے سچی محبت   کرتا ہے؟

·         کیا آپ لوگوں کو نہیں لگتا  ہے کہ ایک طرف خاموش  محبت  اور دوسر ی طرف بے رُخی  ؟

کیا انسان کو کسی کی محبت میں اس  قدر پاگل ہونا چاہیے۔

کیا محبت کا انجام  ہمیشہ  درد ہی ہوتا ہے۔ 









Hamari nayi updates ke liye follow karein:

Post a Comment

0 Comments

© Seven For Eight Hash | Urdu Pakistan — All content is original. Unauthorized use is prohibited.