سال اسلامی یا غیر اسلامی نہیں ہوتے ہیں
قمری سال اور شمسی سال
قمری سال Lunar Yearمسلمانوں کا اور شمسی کیلنڈر Solar Year انگریزوں کا ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ دونوں قدیم ترین کیلنڈر ہیں۔ قرآن نے سورج اور چاند دونوں کو وقت کی پیمائش کا فرمایا ہے اور مسلمان اپنی عبادات کے لئے ،نمازوں کے اوقات کا حساب سورج سے اور روزوں اور حج کا چاند سے کرتےہیں ، نمازوں کے اوقات کا سورج کے تعین سے آسان تھا ۔ رمضان اور حج کا چاند کے ذریعے، لیکن روزے کی داخلی مدت اور حج کے داخلی نظم کو سورج سے وابستہ کر دیا ۔ کیونکہ روزے اور حج دونوں ہی سخت عبادات میں شامل ہے۔ سورج اور چاند اللہ کی بنائی ہوئی دو نشانی ہیں۔ شمسی سال زمین پر وقت کیسے گذرتا ہے۔ بتاتا ہے۔ اور قمر سال ہمیں ہماری روحانی عبادات کی طرف لے کر جاتا ہے۔
| Solar and lunar year |
سورۃ رحمن میں اللہ کا ارشاد ہے کہ !
سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں۔
سا ل کی بارہ اکائیوں
سال اسلامی یا غیر اسلامی نہیں ہوتے
ہیں۔یہ ہر مذہب میں رائج ہیں۔ اور ہر مذہب والا اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔
قدیم زمانے سے انسانوں نے موسمی تغیرات کا مطالعہ کر کے سال کو برابر بارہ
اکائیوں میں تقسیم کر دیا تھا. تاہم ماضی اور مستقبل کے واقعات کا تعین کرنے کے
لیے کسی نہ کسی نقطہ آغاز کی ضرورت رہتی تھی۔
موسم اور شمسی کیلنڈر
شمسی کیلنڈر موسموں سے مطابق ہوتا
ہے اور زرعی شعبے سے وابستہ ہے۔ اس لئے دنیا کے اکثر حصوں میں یہی رائج رہا
، لیکن اس کا آغاز و اختتام جاننے کی ایسی واضح علامات نہیں ہیں جیسی قمری کیلنڈر
کی ہیں اس لیے عربوں نے قمری کیلنڈر اختیار کر لیا البتہ اسے موسموں کے مطابق کرنے
کے لیے اس میں ردوبدل کرتے رہتے تھے جسے قرآن نے منع کر دیا۔ عرب میں یہی کیلنڈر
رائج تھا اس لیے مسلمانوں نے اسے اسلامی کیلنڈر کہنا شروع کر دیا ورنہ اسلامی
عبادات میں سے کچھ عبادات سورج اور کچھ چاند سے وابستہ ہیں۔مثلاً نمازوں کے اوقات
کا تعین، روزے کی ابتدا اور انتہا کا تعین، قیام عرفہ کے وقت کا تعین سورج سے اور
رمضان اور حج کے مہینوں اور تاریخوں کا تعین چاند سے ہوتا ہے.
بکرمی کلینڈر
پاکستان خاص طور پر
پنجاب میں وقت کا حساب کیا جاتا ہے۔ جب کے پنجاب میں مسلمان اور
سکھ مذہب کے لوگ رہتے ہیں۔ کیا اب ہم بکرمی کلینڈر
کو غیراسلامی بولے گے۔ جب کے یہ دیسی مہینے سورج کی چال پر چلتے
ہیں۔ ہر سال ہر دن اور موسم ایک ہی مہینے میں آتے ہیں۔ جب کے دیسی مہینوں کا ہماری
زراعت سے بہت ہی گہر ا تعلق ہے۔
ہماری مٹی کا رشتہ دیسی مہینوں سے
ہمارے پنجاب میں "دیسی مہینوں" (وساکھ، جیٹھ،
ہاڑھ، ساون) کو اکثر پرانا کلینڈر یا غیر
اہم کلینڈر سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ شمسی
نظام کی سب سے بہترین دیسی مفہوم ہے۔ ہمارے پنجاب کے کسانوں کے لیے ، جنوری کا مطلب کچھ نہیں لیکن سچ
میں "وساکھ" کا مطلب گندم کی کٹائی اور خوشحالی ہے۔ "جیٹھ
اور ہاڑھ" کا مطلب وہ کڑکتی دھوپ کی گرمی ہے، جو
پھلوں میں مٹھاس بھرتی ہے۔ یہ مہینے ہمیں فطرت کے قریب لاتے ہیں۔ ان ہی مہینوں میں
پورے پنجاب میں درباروں پر میلے کے رنگا
رنگ پروگرام ہوتے ہیں۔
چینی کلینڈر
یہ کلینڈ ر چاند اور سورج
کے ساتھ چلتا ہے۔ چاند کی چال پر بھی
خیال رکھتا ہے ، اور سورج کے مطابق بھی چلتا ہے۔
ایرانی کلینڈر
یہ دُنیا کا سب بہتر
اور درست شمسی کلینڈر ہوتا ہے۔ اس کا آغاز
ہجرت نبوی ﷺ سے ہوتا ہے ، ۔ لیکن یہ چلتا سورج کے
حساب سے ہے۔ یہ ایران اور افغانستان میں چلتا ہے۔
ہمارے مسئلے کا حل
اور زمین سورج کے ارد گرد
گھومتی ہے۔ اور اس کا سورج کے ارد گرد گھومنے کو ایک طبیعیاتی عمی
بولتے ہیں۔ اس عمی کو مذہبی یا غیرمذہبی بولنا ایک بہت ہی غلط ہے۔یہ
اسی طرح ہے کہ جس طرح ہوا ، روشنی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا
ہے۔ جب کے اصل مسئلہ ہمار ا یہ ہے کہ وقت کی قدر ہے۔وقت ایک سچی
اکائی ہے۔ کلینڈر جو بھی ہو۔ ہمارا مقصد اپنی زندگی کو آسان
بنانا ہے۔ تاکہ ہم ایک نظم و ضبط کے ساتھ چلے۔ سال یا کلینڈر بدلنے سے ہماری
ترجیحات نہیں بدلنی چاہیے۔ ہمیں
یہ سمجھنا ہوگا کہ وقت ضائع کرنا سب سے بڑا گناہ کبیرہ ہے۔
چاہے ہم جنوری میں ہوں یا محرم میں، اگر ہم کام نہیں کر رہے تو ہم پیچھے رہ رہے ہیں۔
ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو دیسی مہینوں کے موسموں اور عالمی شمسی سال میں ڈھالنا ہوگا۔ اس سے ہی قوم و ملک کی کامبابی ہے۔
ہمیں ایک ایسی قوم کے طور پر خود کو تیار کرنا ہوگا۔ جو چھٹیوں کی
خوشی نہیں ،بلکہ اپپنے کام کی عظمت کو سلام کرے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ تعلیمی کلینڈر
کو سب سے اہم اور مقدس سمجھے۔ جب تک ہم
وقت کو ایک آفاقی نعمت کے طور پر قبول نہیں کریں گے اور اسے فرقہ وارانہ یا روایتی
بحثوں سے باہر نہیں نکالیں گے، ہم اسی طرح "چھٹیوں کے نوٹیفیکیشن" کا
انتظار کرتے رہیں گے ۔ اور خود کو غلام قوم کے طور پر تیار کرے گے۔ جبکہ دوسری قومیں مریخ پر بستیاں بسانے کا پلان بنا
رہی ہوگی۔
تبصرہ
کریں (Blog Comments
Section)
آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ نیچے دیے گئے سوالات پر مہربانی کر
کے اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں کریں:
ü کیا ہم اپنے آپ کو ایک اچھی پاکستانی قوم بنا رہے ہیں۔
ü کیاہم وقت کی قدر جانتے ہیں۔
ü کیا سال بھی اسلامی یا غیر اسلامی ہوتے ہیں۔
کیا قمری اور شمسی میں کیا فرق ہے ۔
1 Comments
Good
ReplyDelete