Urdu Romantic Novel Episode 4 اپنا درد تو سب کو درد لگتا ہے ، بیگانہ ڈرامہ

 اپنا درد تو سب کو درد لگتا ہے ،  بیگانہ ڈرامہ


Romantic Urdu Novel
 اپنا درد تو سب کو درد لگتا ہے ،  بیگانہ ڈرامہ


   یہ  افسانہ حقیقت پر بھی  مبنی ،ایک  پیارکرنے والے کے دل  کی آوازاورکہانی  ہے ۔ پر ہے دل میں درد، وفار  رکھنے والوں کے لیے،قسمت کے پھیرے میں اُلجھےہوئےاور شازشوں، دل شکن حالات اور الجُھنوں میں گھرےہوئے ،میرے دوست کی کہانی ہے،جس میں محبت کا لافانی  جذبہ،جو  کسی بھی قید کا محتاج نہیں ۔  جس نے دُنیا کی نہیں ،اپنے دل کی سنی، آنسو اور بربادی کے علاوہ اپنوں اور غیروں نے کچھ نہیں دیا،    میرےدوست  نے دُنیا میں کچھ یادگری  کے کیے ،کچھ کرنے کی امید کی تھی۔ اس لیے خدمت خلق کے لیے اُس نے ایک ہسپتال  بنانے  کی کوشش کی۔


               
کیونکہ وہ یہ کرسکتا تھا، اُس کے پاس ہمت، صلاحیت ، ذہانت ، مستقل مزاجی اور خود اعتمادی تھی،اورکچھ رقم اُس کے پاس تھی اور کچھ اُس نے رقم اپنے چچا اور بھائی، دوست  وغیرہ سے قرض بھی حاصل کیا  اور ایک اچھا کلینک بناتا ہے ، کیونکہ وہ ایک اچھا ایڈمین اور ڈاکٹربھی ہوتا ہے ۔ سب سے بڑھ کر وہ ایک اچھا اور دردمند انسان ہے، جو کسی کے دکھ اور درد کو اچھے طریقے  سے محسوس کرتا ہے۔ اور کسی کو فریب  اور دھوکہ دینا اُس کےبس اور فطرت میں یہ  بات شامل نہیں ہوتی ہے۔ بلکہ دوسروں کی حوصلہ افزائی کرنا، لوگوں کے لیے آسانی  پیدا کرنا، محبت اور الفت کا نور پھیلانا  اُس کا مشن ہوتا ہے۔ مگر چند لوگ اُس کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے  ہیں۔مگر کاش وہ د ل و جان س

ے ميری ہو، میری   ہمت ، حوصلہ  بن جائے،

                مگر وہ اپنی  الفت اور محبت ، عشق ، چاہت  میں  اتنا مگن ہو جاتاہے  کہ وہ  اپنے خلاف ہر    شاز ش کا جواب  ، اُس کی محبت ہی طاقت واردیواربن جاتی ہے ، جو وہ ایک عرصہ اپنے  دل کا حال محبوب کونہ  بول سکا ۔  لیکن دل کےہاتھوں وہ مجبور، بے بس ہوتا ہے۔    لیکن جس سے اُس نے پیار کیا اور اُس نے شک کے اتنے تیر  اور طعنے مارے کہ  یہ
ایک صبروتحمل اور محبت و وفاکی انتہا    کی لازوال داستان بن  گئی ۔   کیونکہ وہ پنجابی اولیا  اکرام بابا  بلھے شاہؒ،وارث  شاہ  ؒ  کا بہت ہی عقیدت مند ہے۔ اس لیے وہ  انکے شعروں  کا بہت سہارا  لیتاہے۔

میری اللہ تعالیٰ سےدعا ہے کہ ہرایک کواُس کی وفا، الفت، انُس،پیار،محبت، عشق  ملےاور دوسرے کی بےرُخی، سنگدلی، بے رحمی، بے وفائی، بے قدری پر صبرعطا کرے ۔ اُس کاپیارخود زبان سے ٍبولےکہ میں تیری ہوں۔   امین

رُخِ بہاء کبھی اس شعر پر غور کرنا،  پلیز یہ کسی کے دل کے خون کے ساتھ لکھے گئے الفاظ ہیں۔ اس کے صفحوں کی  سیاہی پر نہ جانا ۔ کہ اس کا رنگ کالا ہے۔ مگر کیا کریں۔  پیار  یہ نہیں ہوتا  جو مجبوری کو  دیکھے اور بدل جائے،  تھوڑی سی مصیبت  آ جائے تو  محبوب سے رشتہ ناطہ توڑ  لیا  جائے،  پیار  یہ ہوتا ہے کہ   جان جاتی ہے تو جائے ،پر میرا صنم  ایک ہو ، وہ میری ایک ایک سانس لے کر خوش رہے۔  

کچھ خاص  دلوں کو عشق کے الہام  ہوتے ہیں
محبت معجزہ  ہے اور معجزے کب عا م ہوتے ہیں

رُخِ بہاء تم پلیز غور کرنا کہ ،  بے شک تمہارے  دل  کو میری طرف آنے  سے ، بہت سی آپ کی دوست یا   رفاقت  والی دوست روکے گی۔  مگر اعتماد اور اعتبار  ہو تو ہر چیز  کی قیمت ہو جاتی ہے۔ اگر تم کی نظر   میں اعتبار اور یقین نہ ہو تو میں اور کچھ نہیں کر سکتا ۔

میرے عشق سے ملی ہے تیرے حسن کو  یہ شہرت
تیراذکر ہی کہاتھا ، میری داستان سے پہلے

رُخ ِبہاء یہ سچ ہے کہ میں تم کے پیار میں رات کی تنہائی میں رویا بھی ہو ں، اور تم کو ربّ  سے مانگا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ مجھ کے مانگنے میں کوئی کمی ہو، میرے  پیارے اللہ، بہت غفور و رحیم ہیں۔ اور مجھ کو اُس پر یقین ہے۔ 

کون روتا ہے یہاں رات کے سناٹوں میں                   میرے جیسا ہی کوئی ہجر کا مارا ہوگا
کام مشکل ہے مگر جیت ہی لوگا اُس کو                                                میرے مولا کا عمی پر  جونہی اشارہو گا

یہ سچ ہے کہ میرے دل میں اورکوئی نہیں ہے خا ص کر ،تم کی رفاقت والی دوست  اگر ہے کوئی ، تو  یہ سچ ہے کہ تم ہی ہو۔تم میرا یقین ہو،  میرا کسی سے کوئی  تعلق نہیں ہے۔  مجھ کو لوگوں سے نفرت سی ہے، نہ جانے کیوں تم  پر  یقین  کرنے کو دل کرتا ہے۔ جبکہ پتہ بھی ہے کہ تم   مجھ کو دھوکہ دو گی۔ میرا یقین ، ایمان   توڑ دو گی۔ مگر یہ سچ ہے کہ تم میری زندگی اور موت  ہو۔  کاش تم کو پیار کرنا آ جائے ۔ یہ سچ ہے کہ میں او ر تم غلط ہیں، مگرتم سے پیار کیا ہے۔ بس ،  اس کے علاوہ اور کچھ ہے تو وہ  میں نے تم سے پیار کیا ہے۔  پیار وہ انمول موتی ہوتا ہےکہ اگر  مل جائے تو پیار چوم لینا چاہیے۔  پیار ایک احساس ہوتا ہے ، رُخ بہاء پلیز اس کو زندہ رکھنا۔

خوشبو کے جزیروں سے ستاروں کی حدوں تک                                                                        

اس شہر  میں سب کچھ ہے اک تیر کمی ہے

میں محبت میں اُس  مقام پے ہوں جہاں

میری ذات میں رہتی ہے تیر ی ذات مسلسل

 

   تم لاکھ چھپا لو سینے میں احساس ہماری چاہت کا                      دل جب بھی تمہارا دھڑکا ہے آواز یہاں تک آئی ہے

نتیجہ،:

یہ  کہانی یا افسانہ نہیں ہے، یہ ایک انسان  کا پیار کا درد بھر ا ناول ہے جو قسط در قسط  اشاعت کیا  جا رہا ہے۔  بلکہ  یہ جذباتی  اتار چڑھاو  کا ایک ایسا سمندر ہے ، انسان کی سوچ کو لہروں کی  طرح  بہا لے جائے گا، اس میں ایک انسان کی سچی  محبت کی طلب ہے ، اور محبت کا  درد ہے۔  جو آپ کو قسط در قسط  بتایا جائے گا۔  انشاء االلہ آگے  جا کر یے آپ کے دل کو چھو جائے گا۔  یہ ایک محبت بھر ا اور تجس سے بھر پور ہے ۔ کیا رُخ بہاء اپنے محبوب سے پیار  کا اظہار  کرے گی۔   مکمل ناول کے لیے https://www.urdupakista.online پر آ کر  وزٹ ۔ تدیکھو لوگ محبت میں  کس کس طرح درد لیتے ہیں۔ اور تکلیف برداشت کرتے ہیں۔ 

تبصرہ کریں               (Blog Comments Section)

آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ نیچے دیے گئے سوالات پر مہربانی  کر کے  اپنی رائے کا اظہار  ضرور کریں کریں:

 

·         کیا آپ کو لگتا ہے  کہ  اس ناول میں درد  کی شدت  بہت زیادہ ہے ، کیا دونوں کو ملنا چاہیے؟

·         کیا    انسان کو محبت میں اس قدر  شامل   پاگل ہونا چاہیے۔؟

·         کیا   کوئی اس دور میں بھی کسی سے سچی محبت   کرتا ہے؟

·         کیا آپ لوگوں کو نہیں لگتا  ہے کہ ایک طرف خاموش  محبت  اور دوسر ی طرف بے رُخی  ؟

کیا انسان کو کسی کی محبت میں اس  قدر پاگل ہونا چاہیے۔

کیا محبت کا انجام  ہمیشہ  درد ہی ہوتا ہے۔ 



 



 

Hamari nayi updates ke liye follow karein:

Post a Comment

1 Comments

© Seven For Eight Hash | Urdu Pakistan — All content is original. Unauthorized use is prohibited.